ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرنیٹ سرویلنس بل پر دستخط کردیئے


واشنگٹن (24نیوز) امریکا اب پھر دنیا بھر میں جاسوسی کریگا ، ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرنیٹ سرویلنس بل پر دستخط کر دیئے ، بیرون ملک خفیہ معلومات جمع کرنےکااختیار6 سال کیلئے ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق ملکوں اورشخصیات کی جاسوسی سی آئی اے کا پرانا وطیرہ ، اتحادی ممالک کو بھی نہیں بخشتے ، جرمن چانسلر انجیلا مرکل سمیت دنیا کے اہم ترین رہنما سی آئی اے کے جاسوس حملے کا شکار ہو چکے ہیں۔

تین نومبر2013 کی بات ہے جب امریکا کی نیشنل سیکورٹی ایجنسی سے وابستہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر ایڈورڈ سنوڈن نے یہ انکشاف کرکے پوری دنیا کو ہلا کررکھ دیا، کہ امریکا پوری دنیا کی جاسوسی کررہا ہے، حتیٰ کہ امریکا میں کسی شخص کی نجی زندگی کا وجود ہی نہیں رہا۔

برطانوی اخبار دی گارڈین نے سنوڈن کے حوالے سے انکشاف کیا کہامریکا کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کی جاسوسی لسٹ میں پاکستان کا دوسرا نمبر ہے۔ امریکی ادارے نے مارچ 2013 کے 30 دنوں میں پاکستان سے ساڑھے 13 ارب، ایران سے14 ارب،اردن سے12 ارب،مصر سے7 ارب اور بھارت سے6 ارب خفیہ معلومات اکھٹی کیں۔

سی آئی اے کس طرح جاسوسی کرتی ہے ؟ سی آئی اے کی ہیکنگ کے مبینہ ہتھیاروں میں آئی او سی آپریٹنگ سٹسم، ونڈوز، اینڈرائڈ، او ایس ایکس، لینکس کمپیوٹرز اور انٹرنیٹ روٹرز کو متاثر کرنے والے وائرس یا نقصان دینے والے سافٹ ویئر شامل ہیں۔

دنیا کی آٹھ نمایاں ٹیکنالوجی کمپنیاں ایپل ، گوگل، مائیکرو سافٹ، فیس بک، یاہو، لنک ڈان، ٹوئٹر اور اے او ایل نے مشترکہ طور پر اوباما انتظامیہ سے جاسوسی نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا۔

قانون امریکی انٹیلی جینس اداروں کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ فیس بک، ٹوئیٹر اور اسکائپ سمیت کسی بھی انٹرنیٹ پلیٹ فارم کے غیر ملکی صارفین کے اکاونٹ کی جاسوسی کریں، یہ سللہ نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے بہانے دنیا بھر کے شہریوں کے ٹیلیفونی مکالمات سننے اور انٹرنیٹ ڈیٹا کی جانچ پڑتال شروع کی تھی۔