ساہیوال واقعہ:سی ٹی ڈی کی نئی وضاحت سامنے آگئی



لاہور( 24نیوز )ساہیوال مبینہ مقابلے کی ویڈیو منظر پر آنے کے بعد کاو¿نٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی ) پنجاب کی جانب سے نئی وضاحت سامنے آگئی ہے، سی ٹی ڈی اپنی ضد پر قائم ہے ۔

سی ٹی ڈی ترجمان کی طرف سے بتایا گیا کہ ہم نے دہشت گردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنایا ہے،اس سے قبل سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ کار میں اغوا کار سوار تھے اور پولیس مقابلے کے بعد 3 بچوں کو بازیاب کرالیا گیا ہے، سی ٹی ڈی پنجاب کے ترجمان کا اپنی نئی وضاحت میں کہنا ہے کہ گزشتہ روز سیف سٹی کیمرے سے ایک مشتبہ کار کی نشاندہی ہوئی، جس میں اگلی سیٹ پر 2 مرد موجود تھے اور وہ لاہور سے ساہیوال جارہے تھے۔

سی ٹی ڈی کا دعویٰ ہے کہ اہلکاروں نے کار کو رکنے کا اشارہ کیا اور کار نہیں رکی جب کہ ڈرائیور ذیشان سے اہلکاروں پر فائرنگ کی جب کہ کار کے پیچھے آنے والے موٹر سائیکل پر سوار 2 ملزمان نے بھی سی ٹی ڈی اہلکاروں پر فائرنگ کی،ترجمان سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں دہشت گرد ذیشان ہلاک ہوگیا، جب کہ اس کے ساتھ کار میں سوار خاندان کے افراد بھی گولیوں کا نشانہ بنے۔

ضرور پڑھیں:کھراسچ، 18 جون 2019

ترجمان کے مطابق گاڑی کے شیشے کالے تھے جس کے باعث پچھلی سیٹ پر بیٹھی خاتون اور بچے نظر نہیں آئے اور وہ بھی گولیوں کا نشانہ بنے، ہلاک دہشتگرد ذیشان کے پاس دھماکہ خیز مواد تھا اور خاندان کو بورے والا چھوڑنے کے بعد اس کا منصوبہ تھا کہ وہ اسے خانیوال یا ملتان میں کہیں چھوڑ دے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ شاید خلیل کے خاندان کو ذیشان سے متعلق معلوم نہیں تھا کہ وہ دہشت گرد بن چکا ہے، دہشت گرد نے خاندان کو استعمال کیا اور وہ اس کی بھینٹ چڑھ گئے۔

یاد رہے گزشتہ روز جی ٹی روڈ پر ساہیوال کے قریب سی ٹی ڈی نے مبینہ مقابلے میں ایک بچی اور خاتون سمیت 4 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا جس کی نئی ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer