"سی ٹی ڈی نہیں، جے آئی ٹی کے مؤقف کو تسلیم کریں گے"



لاہور(24نیوز) صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کہتے ہیں دہشتگردوں کی کئی روزسےنگرانی کی جارہی تھی، سی ٹی ڈی کےمطابق ذیشان داعش کیلیےکام کررہاتھا،تحقیقات کے بعد ذیشان اور خلیل کے تعلق کے بارے میں حقائق سامنے آئیں گے،متاثرہ خاندان کومکمل انصاف فراہم کیاجائے گا۔

وزیرقانون پنجاب راجہ بشارت کی وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی زیرصدارت اجلاس کے بعد لاہورمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ساہیوال واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم اوروزیراعلیٰ پنجاب نے واقعہ کاسخت نوٹس لیا،  پنجاب حکومت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت بچوں کی کفالت بھی کرے گی۔

راجا بشارت نے کہا کہ سی ٹی ڈی کے مطابق ذیشان داعش کیلئے کام کررہاتھا۔ ذیشان اسلحہ اوربارودکہاں لے کرجارہاتھا؟ بلاامتیازانصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس خلیل کی فیملی کو نقصان نہیں پہنچاناچاہتی تھی۔ سی ٹی ڈی کاموقف ہے آپریشن خفیہ اطلاعات پر ہوا،ہم کسی کیخلاف چارج شیٹ نہیں کررہے، جوذمہ دارہے اسے کیفرکردارتک پہنچایاجائےگا۔

ضرور پڑھیں:کھراسچ، 18 جون 2019

انھوں نے واضح طور پر کہہ دیا کہ سی ٹی ڈی سمیت کسی کے تحفظ کیلئے یہاں نہیں بیٹھے،  ذیشان کی گاڑی سے خودکش جیکٹ،اسلحہ برآمدہوا،ذیشان گاڑی خودچلارہاتھاشیشےکالےتھے،  خودکش جیکٹ پہنی نہیں تھی گاڑی میں رکھی ہوئی تھی، جےآئی ٹی تعین کرےگی خلیل کی فیملی ذیشان کے ساتھ کیوں تھی،راجہ بشارت نے کہا کہ سی ٹی ڈی کے مؤقف کونہیں جےآئی ٹی کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہیں۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔