"بے گناہوں کے قتل کو "کولیٹرل ڈیمج" قرار دیا"



لاہور(24نیوز) پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشار ت ساہیوال میں خلیل اور اُس کے اہل خانہ کا قتل کولیٹرل ڈیمج قرار دے دیا ۔ مقتول جوڑے کی معصوم بچیوں نے گھر پہنچتےہی پوچھا ، ماما کہاں ہیں ? پاپا کیوں نہیں آئے?

سانحہ ساہیوال مین ذیشان دہشت گرد تھا مارا گیا ۔  اچھاہوا ۔ اسی رات گوجرانوالہ میں اس کے دوساتھی مارے گئے اور اچھا ہوا ۔ نہ مارے جاتے تو نہ جانے کتنے بے گُناہوں کو مارتے ۔  یہ کہنا تھا  پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت کا مگر کیا آپ کو خبر ہے مقتول جوڑے کی بچیاں جب گھر پہنچی تو اُنہوں نے کیا پوچھا ۔  اُنہوں نے پوچھا ماما کہا ں ہیں؟ پاپا کیوں نہیں آئے؟  

ان چند لفظوں نے سنُنے والوں کے کلیجے چھلنے کردیٗے۔ قوم بھی آپ سے صرف یہ جاننا چاہتی تھی کہ خلیل ، اس کی بیوی نبیلہ اور 13سالہ بیٹی اریبا کا جُرم کیا تھا؟ مگر آپ نے نہیں بتایا ۔ آپ نے امریکیوں کی اصطلاح میں کہا کو لیٹرل ڈیمج ہوگیا ۔

وزیربا تدیبرآپ کو یاد ہےکوئٹہ کےعلاقے خروٹ آباد ایک حاملہ خاتون سمیت 5چیچن باشندوں کو ہلاک کرکے کہاگیا کہ دہشت گردتھے۔ کراچی میں رکشہ ڈرائیور کو فٹ پاتھ پر بٹھا کر گولی مارکر کہا گیا تھا کہ ڈاکو کا ساتھی تھا۔ 

نقیب اللہ محسود کا قتل تو کل کی بات ہے ۔ یہ سب کو لیٹرل ڈیمج تھے ۔ ان تمام واقعات میں صرف ایک واقعے کے مُلزموں سزا ملی ۔ پتاہے کیا سزا تھی؟ نوکری سےمعطلی کی سزا ۔

تحریک انصاف کی حکومت ہے وفاق میں بھی اور صوبے میں بھی ۔ خُدارا اس طرح کے کولیٹرل ڈیمج کو روکنے کی منصوبہ بندی کیجئے ۔ ایسا نہ ہو بات حدسے سوا ہوجائے ۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔