سندھ ،مسائل کے شکار ووٹرز کی امید

سندھ ،مسائل کے شکار ووٹرز کی امید


کراچی ( 24نیوز ) کراچی اور اندرون سندھ کے ووٹرز مسائل کا شکار ہیں لیکن ووٹ دے کر ان کے حل ہونے کی امید بھی کرتے نظر آتے ہیں، سندھ سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس پینسٹھ میں لوگوں کوکن مسائل کا سامنا ہے، دو ہزار اٹھارہ ٍکے عام انتخابات میں منتخب ہونے والے عوامی نمائندوں کو ان مسائل کے حل میں کن چیلنجز کا سامنا ہوگا وجہ بھی سامنے آگئی۔

حلقہ پی ایس 65 رجسٹرڈ ووٹرز کے اعتبار سے حیدرآباد کا سب سے بڑا صوبائی حلقہ ہے، حلقے سے پچیس امیدوار میدان میں ہیں،لطیف آباد کے اہم کاروباری مرکز پر مشتمل ہے، اس حلقے کے مسائل بھی بے شمار ہیں اور ووٹرز بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

اس حلقے کی صورتحال شہر کے دوسرے حلقوں سے مختلف نہیں، پانی کی قلت، کچرے کے ڈھیر، سیورج کا ناقص نظام، الیکشن میں منتخب ہونے والے امیدواروں کیلئے اس حلقے کے مسائل حل کرنا کسی معرکے سے کم نہ ہوگا۔

پی ایس 65 کہ کچھ ووٹروں نے منتخب نمائندوں کے روئیے سے مایوس ہوکر اس بار ووٹ نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے، وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نومنتخب امیدواروں سے مسائل کے حل کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

کراچی کے حلقہ این اے 242 میں بھی کچھ ایسی صورتحال کا سامنا ہے،پانی ، بجلی اور گیس سے محروم پسماندہ علاقہ کے مکینوں نے اپنے مسائل کے حل کیلئے نومنتخب امیدواروں سےامیدیں باندھ لیں۔

کہنے کو تو یہ ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی کا ہی حلقہ ہے،لیکن حقیقت میں کسی دوردراز، پسماندہ علاقے کا گمان ہوتا ہے، خستہ حال اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، نکاسی کا تباہ حال نظام، کراچی کے حلقہ میں این اے 242 کی عوام کی قسمت بن چکی ہے۔

حلقے میں آنے والے دیہاتوں میں بنیادی سہولیات کی صورتحال زیادہ خراب ہے، علاقہ مکین کہتے ہیں ووٹ لینا ہے توپہلے ہمارے مسائل حل کرو۔

حلقے کے عوام کا کہنا ہے کہ یہاں سے منتخب ہوکر ایوان اقتدار کا رخ کرنے والے سبز باغ تو خوب دکھاتے ہیں لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔