امریکہ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

امریکہ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے علیحدگی کا اعلان کر دیا


واشنگٹن ( 24نیوز ) امریکہ نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے ممبران کو منافق کہہ دیا، کونسل کے اسرائیل مخالف ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کونسل کی ممبرشپ چھوڑ دی ہے۔
امریکہ کی اقوام متحدہ میں سفیر نکی ہیلی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق ’منافقانہ‘ ہے اور ’انسانی حقوق کا مذاق بنا‘ رہی ہے، اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق 2006 میں قائم کی گئی تھی اور کونسل کو ان ممالک کو ممبران بنانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا جن ممالک کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر سوال اٹھتے ہیں۔

پڑھنا نہ بھولیں: انڈونیشیا میں خراب موسم کے باعث کشتی ڈوب گئی 
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایک بیان میں امریکی فیصلے کے حوالےس کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ کونسل کا ممبر رہے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر زید رعد الحسین نے امریکی فیصلے کو ’مایوس کن لیکن حیران کن نہیں‘ قرار دیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کی غیر قانونی طور پر امریکہ آنے والے تارکین وطن کو ان کے بچوں سے علیحدہ کرنے کی پالیسی کو شدید تنقید کا سامنا ہے،ید رعد الحسین نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کو ’بے ضمیر‘ قرار دیا ہے، امریکہ کے اس فیصلے سے ان ممالک کو پریشانی ہو گی جو دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے امریکہ کی جانب دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مقبوضہ کشمیر میں کٹھ پتلی حکومت ختم،گورنر راج نافد
امریکہ کے ہمیشہ ہی سے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں رہے ہیں،بش انتظامیہ نے 2006 میں اس کونسل کے قیام پر اس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا،اس وقت اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جان بولٹن تھے جو اس وقت صدر ٹرمپ کے نیشنل سکیورٹی کے مشیر ہیں، امریکہ اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کا دوبارہ ممبر 2009 میں اوباما انتظامیہ میں ممبر بنا۔