میاں نواز شریف کی درخواست ضمانت مسترد



اسلام آباد(24نیوز)اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواست ایک بار پھر مسترد کردی۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن کیانی نے نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ سنایا جس میں لکھا ہے کہ نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ضمانت نہیں مل سکتی۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ سنادیا، عدالت نے قراردیا ہے کہ نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس میں طبی بنیادوں پر ضمانت نہیں مل سکتی اور نیب کی درخواست مسترد کرتے ہوئے رہا نہ کرنے کی استدعا منظور کرلی۔مختصر فیصلے میں لکھا کہ سپریم کورٹ نے چھ ہفتے علاج کے لیے دیئے تھے لیکن نوازشریف نے سپریم کورٹ کی طرف سے دیئے گئے وقت کا فائدہ نہیں اٹھایا.

دورانِ سماعت نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ نوازشریف کے دل کی شریانوں میں بندش کی وجہ سے کسی بھی وقت ہارٹ اٹیک کا خطرہ ہے۔انسولین کی مقدار کےلیے ان کے شوگر لیول کو بھی مانیٹر کرنے کی ضرورت ہے۔خواجہ حارث نے نوازشریف کی حالت کو پرانی گاڑی سے تشبیہ دے دی، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نوازشریف کی حالت ایسی ہے جیسے پرانی گاڑی جب ورکشاپ جاتی ہے تو ہر چیز کھل جاتی ہے، اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ کوئی ایسا علاج نہیں جس سے دوبارہ جوان ہو جائے، جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال کیا کہ مختصر یہ کہ علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے؟ اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ 6 ہفتے کی سزا معطلی کے دوران نوازشریف کے ٹیسٹ ہوئے تھے، نوازشریف جیل کے ماحول کی وجہ سے اسٹریس کا شکار ہیں، جسٹس محسن اختر نے ریماکس دیےکہ یہ تو غیر ملکی ڈاکٹرز کی صرف رائے ہے، یہاں پر میڈیکل بورڈ نے مکمل معائنہ کیا ہے، اس بات کا کوئی جھگڑا نہیں کہ وہ مرض میں مبتلا ہیں، پاکستان میں بھی قابل ڈاکٹر ہیں جو باہر بھی جاتے ہیں۔

خواجہ حارث نے علاج کے لیے باہر جانے کی غرض سے پرویز مشرف کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشرف کے بیرون ملک علاج کیلئے ان کا نام ای سی ایل سے نکالا گیا۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا نوازشریف کا نام ای سی ایل میں ہے؟ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ جی میرا خیال ہے جب برطانیہ سے واپس آئے تو اس دوران ای سی ایل پر ڈالا گیا، ای سی ایل سے نام نکلوانے کیلئے تو الگ سے سماعت ہوگی، وہ ابھی عدالت کے سامنے نہیں۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔