ماہر خان کو بھی بارش کا موسم پسند ہے؟


ویب ڈیسک: پاکستانی صفِ اول کی اداکارہ ماہرہ نے کہا ہے کہ مجھے آج تک جنسی طور پر ہراساں نہیں کیا گیا۔ لیکن وہ اس حوالے سے آواز ہمیشہ بلند کرتی رہیں گی۔

یہ بیان انھوں نے غیر ملکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے دیا۔ گفتگو کے دوران انھوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی سطح پر ہراساں کیے جانے کے خلاف چلنے والی مہم کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’می ٹو‘ میری بھی کہانی ہے بلاشبہ مجھے نہ آج تک ہراساں کیا گیا اور نہ کبھی تضحیک آمیز رویہ کا سامنا کرنا پڑا۔

اداکارہ نے واضح کیا کہ اب ہمارا معاشرہ بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ یہاں پر لوگ اب ایسے مسائل پر بھی گفتگو کرنے لگے ہیں جن کو پہلے کبھی موضوع گفتگو نہیں بنایا جاتا تھا۔

ماہرہ خان کی اس حوالے کوششوں کا ثبوت ان کی گزشتہ برس ریلیز ہونے والی فلم ’ورنہ‘ ہے جس میں انھوں نے اس حوالے سے آواز بلند کی۔

یہ بھی پڑھئے:ماہرہ خان نے ایشوریا رائے اور عالیہ بھٹ کو پیچھے چھوڑ دیا

ورنہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فلم پر پابندی ایک مخصوص سوچ رکھنے والے لوگوں نے لگائی تھی۔ لیکن فلم کو اجازت بھی ملی جس کا کریڈٹ پاکستان کی سوچ کو جاتا ہے۔ میں مانتی ہوں کہ پاکستان کا معاشرہ اب تبدیلی کے لیے بالکل تیار ہو چکا ہے۔

فلم ورنہ کی ہیروئن نے بتایا کہ فلم میں کام کرنے سے قبل پریشانی سے دوچار تھی جس کی وجہ یہاں کی معاشرتی پابندیاں تھیں جن میں تبدیلی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ ممیز اس وقت ملی جب فلم کا موضوع ان کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوا۔ اس کی وجہ ان کا ایسے مسائل کے خلاف آواز بلند کرنا تھی۔

زینب قتل کیس کا واقعہ قصور میں پیش آیا جس کو انھوں نے تبدیلی سے تمثیل دیا۔ کیونکہ جس طرح سے معصوم زینب کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں بہیمانہ قتل کیا گیا اس پر کبھی بھی آواز نہیں اٹھائی جانا تھی۔ لیکن قصور کے عوام اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس حوالے سے ماہرہ کا کہنا تھا کہ اس سانحہ نے لوگوں کو انصاف کے لیے اٹھ کھڑا ہونے پر مجبور کر دیا اور یوں گلی گلی میں نعرہ لگتا ہوا نظر آیا۔

پڑھنا نہ بھولئے: ماہرہ خان کونسی جادو کی چھڑی لے کر ایشین فلم فیسٹیول ایوارڈ شومیں شریک ہوئیں؟

ماہرہ نے ذاتی زندگی کے حوالے سے بھی پرچار کیا کہ یہ ان کے خاندان کی وجہ سے ممکن ہوا ہے کہ اس قدر آزادانہ زندگی ملی ہے۔ جبکہ اس میں کراچی کو بھی کریڈٹ جاتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ انھوں نے اس امر کا بھی اظہار کیا کہ ہمارے ملک میں اسلامی معاشرہ موجود ہے لیکن عورت کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے حوالے سے رائے قائم کرتے ہوئے بہت تیزی دیکھنے میں آتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا تاثر کچھ اس طرح سے بن چکا ہے کہ مسلمان دہشت گرد نظر آتے ہیں، وطن عزیز میں خواتین کے ساتھ استحصال موضوع عام ہے جبکہ خواتین پر تشدد کرنے کے حوالے پاکستان مرد مشہور ہیں۔

اس حوالے سے انھوں نے ایک مثال دی کہ پاکستان میں اگر جنسی زیادتی کا کوئی واقعہ سامنے آتا ہے تو اس کے تناظر میں بھارت کے اعداد و شمار کا طمانچہ رسید کر دیا جاتا ہے جبکہ ایسے ہی دھماکوں کے حوالے سے مسلمانوں کو سامنے لا کھڑا کیا جاتا ہے۔

ضرور پڑھئے: عالیہ بھٹ کی برقع والی تصویر ، سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی

33 سالہ اداکارہ نے خود کو پاکستان میں موجود خواتین کی نمائندہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ مجھ میں خواتین کے جیسی بہت سی چیزیں سرے سے نہیں ہیں اور یہاں تک کہ کبھی حجاب بھی کیا لیکن خود وطن عزیز کی خواتین کی نمائندہ سمجھتی ہوں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ بین الاقوامی سطح پر اگر کوئی خواتین کی درست نمائندگی کرنے والی خاتون ہے تو وہ ماہرہ خان ہی ہے۔

واضح رہے کہ ماہرہ خان پاکستان فلم انڈسٹری میں سپر ہیروئن کا درجہ رکھتی ہیں جبکہ وہ یوکے ایشین فلم فیسٹول میں ان دنوں شریک ہیں۔ ان کی فلم ورنہ کو لندن میں 18 مارچ کو نمائش کے لیے پیش بھی کیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ ان کو ایوارڈ بھی دیا گیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ ماہرہ خان کو میک اپ نا پسند جبکہ موسم بہت پسند ہے، خاص طور پر بارش کا۔