صفائی کیسے ہوگی؟میئر کراچی اور واٹر کمیشن نے بڑا فیصلہ کر لیا

صفائی کیسے ہوگی؟میئر کراچی اور واٹر کمیشن نے بڑا فیصلہ کر لیا


 کراچی(24نیوز) میئر کراچی اور واٹر کمیشن نے شہر میں صفائی کی ٹھان لی۔ کراچی میں غیر معیاری پلاسٹک بیگ بنانے پر پابندی عائدکردی گئی۔ کچرہ اورپلاسٹک کی تھیلیاں پھینکنے والوں کو دفعہ 144کے تحت سزا بھگتنا ہو گی۔

کراچی کے شہری ہوجائیں ہوشیار نالوں میں کچرا اور تھیلیاں پھینکنے پر گرفتاری ہوسکتی ہے۔ واٹر کمیشن نے ندی نالوں میں کچرہ اور پلاسٹک کی تھیلیاں پھینکنے پر دفعہ 144 نافذ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

دوران سماعت میئر کراچی وسیم اختر نے کمیشن کو بتایا کہ شہر کے نالے کچرہ سے بھر چکے ہیں سب سے بڑا مسئلہ پلاسٹک بیگس ہیں جس کے باعث نالے بند ہو جاتے ہیں۔

واٹر کمیشن نے سیکرٹری داخلہ کو حکم دیا کہ شہر کے ندی نالوں میں کچرہ پھینکنے پر پابندی کے لئے دفعہ 144 نافذ کر کے رپورٹ پیش کريں جبکہ غیر معیاری شاپنگ بیگس پر پابندی کا حکم دیا گیا۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کمیشن کو بتای کہ نالوں کی صفائی کے لئے مشینری خریدنی ہوگی یا کرائے پر لینی پڑے گی۔

کمیشن نے سندھ بھر کے ہسپتالوں میں معاملات دیکھنے کے لئے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی اور جائزہ لے کر 27 مارچ تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

سماعت کے بعد واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے میئر کراچی وسیم اختر سیکریٹری بلدیات اور دیگر حکام کے ساتھ مل کر کراچی میں کچروں سے بھرے نالوں کا دورہ کیا کمیشن کے سربراہ نے سیکریٹری بلدیات اور میئر کراچی کومل کر شہر سے نالوں کی صفائی کرانے کا حکم دے دیا۔