بھارتی عدالت نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان بری کر دیئے



دہلی(24نیوز)سمجھوتہ ایکسپریس کے 68شہیدوں کا خون رزق خاک ہوا ، خصوصی بھارتی عدالت نے تمام ملزموں کو بری کردیا ۔ مرکزی ملزم سوامی اسیم 2015سے ضمانت پر رہاتھا ۔ اجمیرکی درگاہ اور مکہ مسجد بم دھماکو ں میں بھی ملوث تھا ۔

سمجھوتہ ایکسپریس کے شہدا کاخون رزق خاک ہوا ، بھارتی خصوصی عدالت نے مرکزی ملزم اسیم سوامی سب ہی چار ملزمان کو بری کرد یاگیا ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں کا واقعہ 2007میں پیش آیا تھا ۔  اس میں 68 مسافر زندہ جلادیئے گئے تھے  جن میں اکثریت پاکستانیوں کی تھی ۔  اس مقدمے میں ملزمان کی رہائی کا فیصلہ پہلے ہی متوقع تھا ۔  بھارتی سپریم کورٹ کے معروف وکیل پرشانت بھون پہلے ہی کہہ چُکے تھے کہ ہندو انتہا پسندوں کیخلاف مقدمے کوکمزورکرنے کیلئے قومی تفتشی ادارے آئی این اے کی طرف سے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ 

مرکزی ملزم سوامی اسیم آنند سمجھوتہ ایکسپریس کے علاوہ مکہ مسجد اور اجمیر درگاہ سمیت متعد د واقعات میں ملوث تھا اورجن میں کمزور تفتیش کے باعث وہ بری ہو چُکا ہے ۔ سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں کا مقدمہ کانگریس کی حکومت میں قائم ہوا تھا ، بی جی پی کی حکومت آنے کے بعد درجنوں سرکاری گواہ منحرف ہوگئے تھے ۔ مرکزمی ملزم سوامی اسیم 2015میں ضمانت پر رہا کردیا گیاتھا  جو اپنے اقبالی بیان سےبھی منحرف ہوگیا تھا۔  کُچھ عرصہ قبل سوامی اسیم آنند نے بھارتی انگریزی اخبارکیری آن کوانٹرویو دیتے ہوئے بم دھماکوں سے متعلق کئی انکشافات کیےتھےمگر اخبار کے مدیر ہرتوش سنگھ کے مطابق سوامی اسیم سے اس بارے کبھی پوچھ گچھ نہیں کی گئی ۔

پاکستان کی مذمت

پاکستان نے سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزم رہاکرنے کی مذمت کی ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق بیالیس سے زائدپاکستانیوں کے قاتلوں کو رہا کرنے کا عمل قابل مذمت ہے۔ شہداء کے لواحقین کو کیا جواب دیا جائے گا، بھارتی عدالت کافیصلہ انتہائی غلط ہے۔

سانحہ سمجھوتا ایکسپریس کیا ہے؟

18 فروری 2007 کو ہندو انتہا پسند نے لاہور اور دہلی کے درمیان چلنے والی سمجھوتا ایکسپریس پر بم حملہ کیا اور اس کے بعد ٹرین کو آگ لگا دی جس کے نتیجے میں 42 سے زائد پاکستانی مسافر جاں بحق ہوگئے تھے۔ جب تحقیقات کی گئیں تو پتا چلا کہ اس گھناؤنے کام میں بھارتی فوج کے کئی افسران ملوث تھے،  جن میں اس وقت کے حاضر سروس بھارتی کرنل پروہت، میجر اپادھیا، انتہا پسند ہندو رہنما سوامی آسیم آنند اور کمل چوہان دھماکے میں شامل تھے۔بعد ازاں مرکزی ملزم آسیم آنند نے اعتراف جرم بھی کیا اور کہا کہ  بھارتی فوج کی مدد سے یہ درندگی آر ایس ایس جیسی انتہا پسند تنظیم اور تنگ نظر ہندؤں کی کارستانی تھی۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔