کیلاشی قبیلہ پراسرار طور پر غائب ہونے لگا

کیلاشی قبیلہ پراسرار طور پر غائب ہونے لگا


چترال(24نیوز) کیلاشی قبیلہ اپنے منفرد پہناوے اور رسم و رواج کی وجہ سے دنیا میں پہچانے جاتے ہیں، لیکن اب کیلاشی قبیلے کی ثقافت معدوم ہوتی جا رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈھائی ہزار سال سے زائد چترال کے شمالی میں رہنے والے بے رنگ پہاڑوں میں رنگ بکھیرنے والا کیلاش قبیلہ اب بھی بہت سے لوگوں کے لئے پر اسرار ہے۔ہندوکش کے پہاڑوں میں بسیرا کرنے والے کیلاشیوں کو کوئی سکندر اعظم کی فوج کی اولاد کہہ رہا ہے تو کوئی اسے منگولوں سے منسوب کر رہا لیکن یہ بات اٹل ہے کسی زمانے میں ان کی تعداد لاکھوں میں ہوتی تھی جو اب چند ہزار ہی رہ گئی ہے اور دن بدن ان کی آبادی اور ثقافت معدوم ہوتی جارہی ہے۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:کیا آپ ہمیشہ کیلئے سمندر میں رہنا چاہتے ہیں؟ 

 واضح رہے کہ کیلاشی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد نہ صرف چترال بلکہ چترال سے ملحقہ پاک افغان سرحد کے علاقہ نورستان میں بھی موجود تھے۔ کیلاشی ثقافت اب خطرے میں ہے جس کی بڑی دلیل آنے والی نسل کا دوسرے ثقافتوں سے مرغوبیت اور کنورژن ہے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں:صدیوں پرانےتاریخی مقامات لاوارثی کا شکار

 علاوہ ازیں قدیم مذہبی روایات اور رواج کی امین کیلاش برادری کے افراد اب اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اگر ان کی ثقافت اس طرح کم ہوتی گئی تو وہ دن دور نہیں جب ان کا نام و نشاں تک مٹ جائے گا۔ماہرین کے مطابق کیلاشی ثقافت ملک کا عظیم اثاثہ ہیں جن کے مسائل کے حل کی طرف توجہ ہی اس کا واحد حل ہے۔

مزید اس ویڈیو میں: