پنجاب حکومت نے ایک اور اہم منصوبہ ہڑپ کر لیا

پنجاب حکومت نے ایک اور اہم منصوبہ ہڑپ کر لیا


منڈی بہاؤالدین(24نیوز) سالم انٹر چینج منڈی بہاؤالدین تا گجرات ہائی وے ڈبل سڑک کی تعمیر پیچ ورک میں تبدیل ہو کر رہ گئی،5ارب 7کروڑ روپے کے منصوبے میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے سیکریٹری نے مبینہ 54کروڑ روپے کمیشن وصول کیا۔

تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب نے منڈی بہاوالدین کے شہریوں کوموٹروے اورگجرات لاہورہائی وے سے منسلک کرنے کیلئے 5 ارب 7 کروڑ روپے کے منصوبے کی منظوری دےکرفنڈزجاری کیے۔ جس سے  94کلومیٹر دورویہ سڑک تعمیرکی جانی تھی۔محکمہ پراونشل ہائی وے کی جانب سے سڑک کی تعمیرشروع کی گئی لیکن یہ سڑک مکمل ہونے سے قبل ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکرکھڈوں میں تبدیل ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں:کیلاشی قبیلہ پراسرار طور پر غائب ہونے لگا 

   محکمہ پراونشل ہائی وے کی جانب سے جن کنسٹریکشن کمپنیوں کواس کی تعمیرکا ٹھیکہ دیا گیا۔ ٹھیکیدارنے ہائی وے سڑک کی تعمیرمیں انتہائی سب سٹینڈرڈ کا مٹیریل استعمال کیا۔ سڑک کی 6 انچ کارپٹ کوکم کرکے 3 انچ کردیا گیا جبکہ پتھرناقص اورغیرمعیاری استعمال کیا گیا۔ بارموسیٰ سے ہیڈ فقیریاں کے درمیان ایک کلومیٹر کے قریب ایک حصہ ہے جہاں پرپرانی سڑک پرہی کارپٹ روڈ بنا دیا گیا۔ اسی طرح کراچی کی تارکول (پیچومین ) کااستعمال کرنے کی بجائے ایران کی سستی اورغیرمعیاری تارکول استعمال کی گئی۔ جس سے جگہ جگہ سے سٹرک پھٹ کرکریش ہوگئی اوراب محکمہ کے افسران اورٹھیکیداراپنی کرپشن سب سٹینڈرڈ مٹیریل کوچھپانے کیلئے زیرتعمیرسڑک پرکئی کئی کلومیٹرکا پیچ ورک لگانے دیا۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:کیا آپ ہمیشہ کیلئے سمندر میں رہنا چاہتے ہیں؟ 

  باوثوق زرائع سے بات سامنے آئی ہے کہ اس سڑک کی تعمیر میں پرنسپل سیکرٹری ٹو سی ایم امداداللہ بوسال اور اس کے بھائی ن لیگی ایم این اے ٹھیکداروں سےکروڑوں روپے کمیشن وصول کی۔ جس وجہ سے اس ایشو پر ڈپٹی کمشنر منڈی بہاوالدین حافظ شوکت نے متعدد بار موقف کے لیے رابطہ کرنے پر موقف دینے کی بجائے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے موقف دینے سے انکار کر دیا۔ لوگوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اس میگا کرپشن اور سرکاری خزانہ کو نقصان پہنچانے پر ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔