ملک میں سول سروسز اور گورننس کا نظام ٹھیک کریں گے: عمران خان

ملک میں سول سروسز اور گورننس کا نظام ٹھیک کریں گے: عمران خان


اسلام آباد(24نیوز) عمران خان نے پی ٹی آئی کے سو روزہ پلان کی تقریب سے خطاب  کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پہلے 100 دن پارٹی کے نظریے کا تعین کرتے ہیں۔

اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں تحریک انصاف کی جانب سے تقریب کا اہتمام کیا گیا  جس میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان، اسد عمر اور شاہ محمود قریشی سمیت دیگر افراد  نے شرکت کی۔

 پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی حکومت کا 100 دن کا مجوزہ پلان پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پہلے 100 دن پارٹی کے نظریے کا تعین کرتے ہیں، پہلے 100 دن کی آئیڈلوجی بتا رہے ہیں،  ہم نے پہلی بار الیکشن کی تیاری کی ہے۔ان نے کہا کہ  اگر ہم 2013 میں حکومت میں آ جاتے تو شاید اس طرح ہماری تیاری نہ ہوتی جس طرح اب ہے،  اب ہمیں حکومت چلانے کا 5 سال کا تجربہ ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ اور فاٹا کو خیبرپختونخواہ میں ضم کریں گے: شاہ محمود قریشی 

عمران خان نے کہا کہ ہم اداروں میں میرٹ کا نظام لائیں گے، سول سروسز میں اصلاحات کریں گے اور گورننس کا نظام ٹھیک کریں گے۔ہم نے دیکھنا ہے کہ سول سروسز کو کیسے ٹھیک کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والے مافیا ہر ادارے میں بیٹھے ہوئے ہیں لیکن ہم نے نچلے طبقے کو اوپر لانا ہے اور اس کے لیے سب سے پہلے بیورو کریسی کو سیاست سے پاک کرنا ہو گا۔نظام ٹھیک کرنے چلیں تو کرپٹ مافیا درمیان میں آجاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان چھوٹے سے طبقے کے لیے بن گیا ہے ۔ جانوروں کے معاشرے میں انصاف نہیں ملتا۔ 

عمران خان   نے کہا  کہ یہ قتل اور اربوں روپے چوری کر کے بچ جاتے ہیں، مجھے کیوں  نکالا  ریفلیکٹ کر رہا ہے کہ ہمارا معاشرہ نیچے چلا گیا گیا ہے۔مجھے کیوں نکالا کا مطلب ہے کہ میں اتنا طاقتور ہوں کہ مجھے کیسے نکالا۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ نے خیبر پختونخواہ کی ترقی کا بھانڈہ پھوڑ دیا

 ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو ماہ میں  27 ہزار ارب روپے قرض لیا گیا۔کوئی حکومت بتائے گی قرض واپس کیسے کرنا ہے؟   انھوں نے کہا کہ  اوور سیز پاکستانی ملکی معیشت میں  بہت اہم ہیں ، ہمارے اوور سیز پاکستانی یہاں آکر سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ، ہمارے ایکسپورٹر کے پیسے رکھ لیے جاتے ہیں وہ کیسے انویسٹ کریں گے، روزگار دینے کے لیے انویسٹر ہمارے لیے بہت بڑا سرمایہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  کراچی کا درجہ حرارت بہٹ زیادہ ہوگیا ہے ، حیدر آباد میں 30 اپریل کو سب سے زیادہ گرمی تھی ، لاہور اور کراچی میں اگر آپ جہاز پر لینڈ کرتے ہیں تو ہر جگہ کنکریٹ نظر آتا ہے درخت ختم کر دیے گئے ہیں ۔ انھو ں نے  ن لیگ کو آڑے ہاتھو ں لیتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کہتی ہے کہ کے پی میں درخت نہیں لگائے ، انھوں نے دعوت دی کہ آکر معائنہ کرلیں ۔ 

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں گے اور ہمارا نظریہ مدینہ کی ریاست کا نظریہ ہے۔

شاہ محمود قریشی: 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں احساس محرومی کودور کرنے کا وقت آگیا ہے۔ تحریک انصاف اقتدارمیں آنے کے بعد نیا صوبہ بنائےگی۔  انھوں نے کہا جنوبی پنجاب زراعت کی ریڑھ کی ہڈی ہوگا۔

بلوچستان کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ناراض لوگوں کو قومی دھارے میں شامل کریں گے، بھٹکے ہوئے لوگوں کو قومی دھارے میں شامل کریں گے۔ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے ۔ بلوچستان کو احساس محرومی سے نکالیں گے۔فاٹاکوخیبرپختونخواہ میں ضم کریں گے۔ فاٹا کااحساس عمران خان سے زیادہ کسی کو نہیں۔ فاٹا کے لوگوں کو خیبرپختونخواہ اسمبلی میں سیٹیں  اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ 

 شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ن لیگ کی نیت پرکل بھی شک تھا اورآج بھی ہے۔انگریزکے کالےقانون ایف سی آرکو فی الفور ختم کریں گے۔