شاہ سلمان کا ممکنہ طور پر اقتدار اپنے بیٹے کو بادشاہت سونپنے کا فیصلہ

شاہ سلمان کا ممکنہ طور پر اقتدار اپنے بیٹے کو بادشاہت سونپنے کا فیصلہ


 ریاض(24نیوز): سعودی عرب میں سب سے بڑی اور ڈرامائی تبدیلی کے حوالے سے مغربی اخبارات کی پیش گوئیاں سچ ثابت ہو رہی ہیں، برطانوی اخبار کا دعوی کہ سعودی فرماروا شاہ سلمان نےممکنہ طور پر اقتدار اپنے 32 سالہ بیٹے محمد بن سلمان کو بادشاہت سونپنے کا فیصلہ کرلیا۔

سعودی عرب میں انتقال اقتدار کی خبر گزشتہ ہفتے ایک برطانوی اخبار نے شائع کی، اس سے ایک روز قبل سعودی عرب ان خبروں کو افواہیں قرار دے کر رد کر چکا تھا، اگرچہ مغربی میڈیا اب بھی اس بات پر مصر ہے کہ محمد بن سلمان جلد سعودی عرب میں تخت نشین ہو جائیں گے، اسکے علاوہ سعودی اخبار نے کچھ مزید پیش گوئیاں بھی کیں، جن میں سے زیادہ سچ ہوتی جا رہی ہیں۔

اخبار کا دعوی تھا کہ سعودی عرب اپنی تمام تر توجہ ایران کی جانب مبذول کر لے گا، جس کا عملی ثبوت گزشتہ روز ہونے والی عرب میٹنگ میں سامنے آ چکا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ محمد بن سلمان شاہی خاندان کے بیشتر افراد کے موقف کے خلاف ایران اور حزب اللہ کو اپنا پہلا حدف بنانا چاہتے ہیں اور اس کام کے لیے انہوں نے لبنان میں جنگ کی شروعات کا منصوبہ تیار کر رکھا ہے جبکہ انہوں نے اسرائیل کی حمایت کرنے پر اسے اربوں ڈالر امداد دینے کا پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے۔ گزشتہ روز اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ حزب اللہ نے سعودی عرب کے حلیف امریکا میں اپنا دفتر بند کر دیا اوراسرائیل کے وزیر توانائی یوول اسٹینیز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کےسعودی عرب سے خفیہ رابطے ہیں۔