چہرہ ہے یا ماسک۔۔۔ پہچاننا مشکل

چہرہ ہے یا ماسک۔۔۔ پہچاننا مشکل


24 نیوز: جاپانی کمپنی ’ رئیل ایف کو ‘ ایسے ماسک تیار کرتی ہے جو حقیقیت کے اتنے قریب تر ہوتے ہیں کہ اصل اور نقل کی پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے، تصویر کو اتنی مہارت سے ماسک پر منتقل کرتی ہے کہ جلد کی جھریاں تک واضح طور پر نظر آتی ہیں۔

 یہ کمپنی جاپان کے ایک گاؤں میں قائم ہے اور  اس کے صارف پوری دنیا میں موجود ہیں، کمپنی صرف 5 کارکنان پر مشتمل ہے اور ایک سال کے دورانیے میں تقربیاً 100 ماسک تیار کرتی ہے، ایک ماسک کی قیمت تقربیاً ساڑھے چھبیس سوڈالر تک ہوتی ہے۔کمپنی کے بانی ’ اوسامو کتاگاوا ‘ ہیں، انہوں نے اپنی کمپنی 2011 میں شروع کی۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں ماسک بنانے کا آئیڈیا تب  آیا جب وہ پرنٹنگ مشینری بنانے کی ایک کمپنی میں ملازم تھے لیکن اس خیال کو حقیقت میں بدلنے کیلئے انہیں دو سال سے زیادہ عرصہ لگا، جس کے بعد انہوں نے تھری ڈی طریقے سے چہرے کا ڈیٹا اعلیٰ ترین کوالٹی کی تصویر  بنانے کے لیے استعمال کیا جسے وہ ماسک بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔

 یاد رہے کہ اوسامو یہ ماسک خصوصی پلاسٹک سے تیار کرتے ہیں لیکن مستقبل میں وہ سیلیکان سے ماسک تیار کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ روبوٹس ٹیکنالوجی کی ترقی سےمستقبل میں  انسانی ماسک بنانے کی انڈسٹری بھی بہت ترقی کرے گی۔

Malik Sultan Awan

Content Writer