شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کی وفات کو 80 برس بیت گئے


9نومبر1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے  علامہ محمد اقبال کا تعلق کشمیر سے تھا ان کے آبا‌ ؤ اجداد اسلام قبول کرنے کے بعد سیالکوٹ میں آباد ہوگئے۔ شاعرِ مشرق نے سیالکوٹ سے میٹرک کیا اور انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لئےلاہورچلے گئے جہاں انہوں نے 1899  میں ایم اے کیا۔

شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال اورینٹل کالج اورپھر گورنمنٹ کالج میں تدریسی فرائض انجام دینے لگے۔1905  میں وہ اعلیٰ تعلیم ک حاصل کرنے کےلئے  بیرون ملک  چلےگئے۔ انہوں نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔  شاعرِ مشرق ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے معروف مفکر، شاعر، مصنف، قانون دان، سیاست دان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔

یہ بھی پڑھیں:لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں: چیف جسٹس
 
شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ انہوں نے دا ری کنسٹرکشن آف ریلیجیئس تھاٹ ان اسلام کے نام سے انگریزی میں ایک کتاب بھی تحریر کی۔ بحیثیت سیاستدان علامہ اقبال کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریہ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے1930 میں الہ آباد میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا

 علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں مسلم نوجوان کو ستاروں پر کمند ڈالنے اور قوم کو خانقاہوں سے نکل کر میدان عمل میں اترنے کی ترغیب دی۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونکی۔ جو تحریکِ آزادی میں بے انتہا کارگر ثابت ہوئی۔ علامہ اقبال کے شعری مجموعوں میں بانگ درا، اسرار خودی ، بال جبرئیل، ضرب کلیم، پیام مشرق، رموز بے خودی، جاوید نامہ شامل ہیں۔اور پھر 21 اپریل 1938 میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔