سراج الحق کے عمران خان پر تابڑ توڑ حملے،وجہ سامنے آگئی

سراج الحق کے عمران خان پر تابڑ توڑ حملے،وجہ سامنے آگئی


لاہور(24نیوزویب ڈیسک)جوں جوں عام انتخابات قریب آتے جارہے ہیں،موجودہ اور سابقہ ممبران اسمبلی سائبرین پرندوں کی طرح محفوظ ٹھکانوں کی طرف بھاگ رہے ہیں،جنم جنم تک ساتھ نبھانے کی قسمیں کھانے والے سامنے جلتی آگ کو دیکھ کر ”بچاﺅ بچاﺅ“کی کیفیت میں ہیں،موسمی پنچھی ایک سے دوسری،دوسری سے تیسری منڈھیر پر جاکر بیٹھ رہے ہیں،پانچ سال تک جو مومن تھے،پاکباز تھے ایک دم سے ”آستین کے سانپ“ ”چور،ڈاکو“پتا نہیں کیا کیا بن گئے ۔
پاکستان کی سیاست اس وقت عجب تبدیلی کی موڈ میں نظر آتی ہے،تمام جماعتیں اسمبلیاں ٹوٹنے کی منتظر ہیں، کب مالا ٹوٹے اور موتی بکھریں،چننے والے باراتیوں کی طرح بے صبرے ہوئے جارہے ہیں، اپوزیشن ہویا حکومت دونوں اپنے آئند لائحہ عمل اسی فیصلہ کی صورت میں مرتب کرینگی،آئندہ انتخابات کیلئے اپنے منصوبے بے نقاب کریں گی۔
منصوبے ،منشور آئیں نہ آئیں،الزامات کی ضرور بوچھاڑ ہورہی ہے،الزام تراشیوں ،بہتان فروشیوں کی دکانیں سجی ہیں،اس دوڑ میں صرف کارکن ہی نہیں قائدین تک شامل ہیں،باقی تو باقی تھے یہ جماعت اسلامی کو کیا ہوگیاہے؟سینیٹر سراج الحق کے لہجے میں اچانک تلخی کیوں آگئی؟آمروں کی بی ٹیم سمجھی جانیوالی ”صالحین“کی جماعت نے ”اوپر والوں“کے منصوبوں پر سیاہی کیوں انڈیلنا شروع کردی،کبھی کہتے ہیں کہ کرپٹ لوگوں کی گردنوں پر پاﺅں رکھ کرقوم کا پیسہ ان کی جیبوں سے نکالیں گے،کبھی کہتے ہیں کہ آٹھ ہزار لوگوں کو جیل میں ڈال دیں تو کرپشن کا راستہ بند ہوجائے گا اور کبھی فرماتے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ”اوپر والوں“کے کہنے پر ہوا ہے۔سب کھوکھلے بیانات ہی ہیں یا ان میں کوئی وزن بھی ہے یا نہیں؟


 ”کرپشن فری پاکستان “کا نعرہ سب سے پہلے جماعت اسلامی نے لگایا،پانامہ پیپرز میں شامل سب کرپٹ لوگوں کے خلاف بھی سپریم کورٹ میں سراج الحق گئے،پی ٹی آئی اور شیخ رشید نے پارلیمنٹ سے بات بنتی نہ دیکھ کر چند قدم دور اسی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا،یہ الگ بحث ہے کہ وزیر اعظم اور شریف خاندان کے کیس کو اہم اور باقی چار سو سے زائد افراد کی لوٹ مار کو الگ کرکے عدالت کی الماریوں میں سجا دیا گیا،قصہ مختصر نواز شریف نااہل ہوئے،نیب انکوائریاں جاری ہیں پیشی پر پیشی ہورہی ہے،اپوزیشن جارحانہ کھیل کھیل رہی ہے تو حکومت دفاع دفاع کرتے اس پوزیشن پر آگئی ہے کہ اب سانسیں اکھڑنا شروع ہوگئیں ہیں،ہر بندہ گرتی ہوئی دیوار کو دھکا دینا چاہتا ہے لیکن سراج الحق پر کیوں الزام آرہا ہے کہ وہ دیوار کے نیچے کھڑا ہونا چاہتے ہیں،وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کا بھی کہا جارہا ہے ۔گھر کا بھیدی ہی گھر کے راز جانتا ہے،جس طرح جاوید ہاشمی نے پی ٹی آئی کے راز کھولے،سراج الحق بھی پانچ سال تک خیبر پی کے میں ساتھ رہنے کے بعد سب عوام کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں،سیاسی برتری کے حصول اور نئے اتحادیوں کو خوش کرنے کیلئے عمران خان اور ان کے دست راست وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا پردہ چاک کررہے ہیں اسی کی پوری پی ٹی آئی کو تکلیف بھی ہے۔

ذہن صاف کرلیں !جس دن مارشل لاءلگا چلا جاﺅں گا: چیف جسٹس
عام سیاسی جماعتوں سے زیادہ اقتدار کا نشہ مذہبی جماعتوں میں پایا جاتا ہے لیکن بیچارے روایتی نعروں کی زد میں آکر خواب چکنا چور کروا بیٹھتے ہیں،سب آپ کے سامنے ہے کہ مسلم لیگ،جے یو آئی اور جماعت اسلامی پاکستان کی سب سے پرانی جماعتیں ہیں لیکن اقتدار صرف مسلم لیگ کے حصے میں آیا اور بار بار آیا،مذہبی جماعتیں اب اتحادوں کی گٹھڑی میں بند کر اقتدار کی سیڑھی چڑھنا چاہتی ہیں،ماضی میں کسی حد تک کامیاب بھی رہی ہیں،سراج الحق بھی اپنے خواب کی تکمیل کیلئے بلے کی بجائے کتاب اٹھاکر میدان میں آئے ہیں،یہ الگ بات ہے کہ پنجاب کے ”جماعتیے“شیر کی کچھار میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں، جماعت اسلامی نے متحدہ مجلس عمل کی کڑوی گولی نگل ہی لی ہے تو اب اسے ہضم بھی کرنا چاہتی ہے،پانچ سال پرانے ناطے توڑ کر نئے رشتے بنانا چاہتی ہے-

اصل ایم ایم اے جماعت اسلامی اور جے یو آئی ہیں اور اس کے بارے میں خیال تھا کہ یہ ”اوپر والوں“نے ہی بنائی تھی مولانا فضل الرحمان کے ساتھیوں نے بھی انہی کے کہنے پر صادق سنجرانی کو ووٹ دیا،نواز شریف کا ساتھی ہوتے ہوئے مولانا کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی تو سراج الحق کیوں ”اوپر والوں“سے دشمنی لے رہے ہیں،مسئلہ پوزیشن کا ہے کل تک ”اوپر والوں“کیلئے جو کردار جماعت اسلامی نبھاتے آرہی تھی وہ اب تحریک انصاف نے سنبھال لیا ہے اور کافی حد تک کامیاب بھی ہے، جماعت اسلامی اب چھتری کے بغیر ہی بارش اور دھوپ کا سامنا کرے ایک نہ ایک دن اقتدار مل ہی جائے گا۔