بڑھتی آبادی کے جھمیلے ! کتنی حقیقت ، کتنا فسانہ؟

محمد سعید رفیق

بڑھتی آبادی کے جھمیلے ! کتنی حقیقت ، کتنا فسانہ؟


آج کے ارسطو اور بقراط بڑھتی آبادی کو آنے والے سالوں میں دنیا کی ہولناک تباہی کا پیش خیمہ ثابت کرنے کی کوششوں میں ہیں ۔کہا جارہا ہے کہ 2100میں جب آبادی 11بلین سے بھی بڑھ جائیگی تو یقینی طورپر یہ دنیا رہنے کے قابل نہیں رہیگی ۔ قدرتی وسائل کیلئے سالانہ 4ٹریلین ڈالر کے اضافی خرچ کے باوجود لوگ صاف ہوا، صاف پانی ،خورا ک اور جگہ کی کمی کے جھمیلوں میں گرفتار ہوکر باہمی تنازعوں اور جنگوں میں گھر جائیں گے۔ ایسے میں ہمیں زمین ہی کے برابر اور اسی کے مماثل وسائل سے مالا مال ایک اور سیارہ درکار ہوگا، جس پر مزید زندگی کی داغ بیل ڈالی جاسکے۔

ہمیں بتایا جارہا ہے کہ وسائل کے حصول کیلئے ہونے والے اخراجات میں سالانہ 30 فیصد اضافہ ہی درآصل بحران کا اصل سبب ہے ۔ یہ اضافی اخراجات اقتصادی جنگل میں قرض کی بیڑیوؓں میں جکڑے ملکوں کی معاشی بد حالی کی بھی وجہ ہیں۔ صرف یہی نہیں آبادی کی اکثریت کے سبب زیادہ تر ممالک ہوشربا اخراجات کے باوجود صاف پانی اور متوازن غذا تک سے محروم ہیں۔

ابتدائی جائزے میں یہ مان لینے میں کوئی حرج نہیں کہ بڑھتی آبادی دنیا کے ماحول ، سماج اور وسائل کیلئے بلاشبہ خطرناک ہے ۔ مثلاً بڑھتی آبادی سے پانی کی فراوانی جلد کمیابی میں تبدیل ہونے والی ہے۔ اس وقت بھی206میں سے 35ممالک پانی کی کمی کے سبب تنازعات میں گھرے ہیں۔ ایک ارب سے زائد ٓبادی پانی کی کمی کا شکار ہے، 2025میں یہ تعداد تین ارب سے زائد ہوجائیگی۔ جبکہ 2100 میں دنیا کی تقریباً آدھی آبادی پانی کی کمیابی کے مسئلے سے دوچار ہوگی ۔ فی الوقت دنیامیں فی کس پانی کی دستیابی ایک ہزار مکعب میٹر رہ گئی ہے۔ بحران بڑھنے کی صورت اس میں مزید کمی کااندیشہ ہے ۔ عالمی مسئلے کی سنگینی کا اندازہ قلت آباب کی شکار آبادی کی برھتی ہوئی نقل مکانی سے بھی لگایا جاسکتا ہے ۔ اندازہ ہے کہ آئندہ آنے والے سالوں میں 1.8 بلین آبادی پانی کی کمی کے شکار ہو کر اپنے ملکوں سے ہجرت پر مجبور ہو جائیگی۔

بڑھتی آبادی کے پیش نظر بڑھتی خوراک ضروریات پوری کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ آئندہ سالوں میں مزید ایک بلین آبادی کی خوراک ضروریات پوری کرنے کیلئے ایک ٹریلین مکعب میٹر سالانہ اضافی پانی کی ضرور ت پڑے گی۔ پانی کی مطلوب مقدار دریائے نیل حجم کے20 ذخیروں کے برابر ہے۔ جبکہ 2100 تک جب آبادی میں تقریبا ساڑھے تین بلین اضافہ ہوجائیگا تو یہ ضرورت بھی بڑھ کر 80دریائے نیل کے برابر ہو جائیگی ۔ اسی طرح بجلی کی اضافی ضروریات پوری کرنے کیلئے 2040میں پانی کی موجود ہ کھپت کا 40فیصد مزید درکار ہو گا۔

2030تک بھارت میں 60 فیصد اضافے سے پانی کی ضروریات 740بلین مکعب میٹر سے بڑھ کر 1.5ٹریلین مکعب میٹر سالانہ ہوجائینگی۔ 2100 تک کرہ ارض کے درجہ حرارت میں دو سے 4.5ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ کا خدشہ ہے ۔ جس کے سبب بڑے بڑے گلشیئرز کے پگھلنے کے عمل میں غیر معمولی تیزی آئیگی۔ نتیجتاً جہاں ہنگامی طور پر پانی کی ضرورتیات پوری ہونگی وہیں دریاؤں میں سیلا ب اور طغیانیوں کا ایک طویل سلسلہ بھی شروع ہو جائیگا، جس سے تقریبا ایک ارب انسان متاثر ہونگے۔

آباد ی کے ممکنہ طوفان میں قلت آب کے بعد خوراک کا مسئلہ بھی گھمبیر ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کی آبادی 2ارب بڑھنے سے غذائی اشیا کی سپلائی پر 28 جبکہ زراعت پر13 فیصد دباؤ بڑھے گا۔ جبکہ پہلے ہی دنیا کی ایک ارب کے قریب آبادی یعنی 13.5 فیصد پہلے ہی غذائی قلت کا شکار ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ سالانہ 26لاکھ بچے سالانہ بھوک کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

ایک دوسری رپورٹ کے مطابق خوراک کا سب سے بڑا ماخذ ہماری زرعی زمین ہے ، فی کس 0.07ہیکٹر یا ایک چوتھائی ایکٹر فی کس خوراک کے لئے ضروری ہے ۔ اس حساب سے فی الحال دنیا کے 415ملین کی آبادی کی خوراک کیلئے زمین دستیاب نہیں۔ 2025 میں یہ تعداد ایک ارب جبکہ 2100 میں  بڑھ کر آدھی آبادی تک پہنچ جائیگی ۔ رپورٹ کے مطابق دنیا میں اس وقت 57ملین اسکوائر میل دستیاب رقبے میں سے صرف 12ملین اسکوائر میل پر کاشت کی جارہی ہے۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ سالانہ ایک لاکھ مربع میل پانی کی کمیابی اور رہائشی سہولیات کیلئے زمین کی فراہمی کی غرض سے قابل کاشت نہیں رہ پارہا۔

عالمی ادارہ صحت خوراک کی کمی کے مسئلے کو درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے سے جوڑتا ہے ،حیرت انگیز طور پر دنیا کو سمندری خوراک کی بھی کمی کا سامنا ہے ۔ دریاؤں اور سمندروں میں موجود مچھلیوں میں کمی کی یقنی وجہ جہاں سمندری آلودگی ہے وہیں  بڑھتی آبادی بھی ایک سبب ہے۔ کہا جارہا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں 1.5 سے4.5 فیصد تک اضافے کا امکان ہے جس سے فصلوں کی کاشت کا موسم اور شیڈول بری طرح متاثر ہوگا ۔ درجہ حرارت بڑھنے سے ساحلی علاقوں میں آنے والے طوفان اور طغیانی بھی کاشت کو نقصان پہنچائینگے۔

دنیا کی بقا کیلئے بڑھتی ہوئی آلودگی اور تیزی سے پروان چڑھتا موسمی تغیر خطرناک ہے۔ فضا میں بڑھتی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے ہے۔ یہی نہیں زہریلی گیسوں کا اخراج اوزون کی سطح کو بھی بری طرح متاثر کررہا ہے ۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے اخرا ج میں  غیر معمولی اضافہ حدت کی بڑی وجہ ہے ۔1750کے صنعتی انقلاب کے بعد فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈکی مقدار میں  30 اور میتھین گیس میں 70فیصد اضافہ ہوا۔ایک تجزیہ کے مطابق اس وقت فضا میں  جتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے دنیا میں گزشتہ آٹھ لاکھ سالوں میں بھی نہیں پائی گئی ،، گزشتہ سوسالوں میں  نامناسب گیسوں میں زیادتی کے سبب درجہ حرارت میں 0.8فیصد اضافہ ہوا، جس میں سے 0.6گزشتہ تیس سالوں کا خراج ہے۔ یہی نہیں موسمیاتی تبدیلیوں سے سمندر کی سطح آب حالیہ چند عشروں میں تین ملی میٹر اونچی ہو گئی ہے۔

آئندہ آنے والے سالوں میں پیش آنے والی موسمیاتی تبدیلیاں زمین پر موجود خوراک کے ذخیروں کو شدید متاثر کرینگی۔ اس کے علاوہ بڑا خطرہ اور شاید سب سے بڑا خطرہ 2100تک دنیا کے 36فیصد برف کے ذخائر پگھلنے کا ہے ۔ جس کے نتیجے میں انسانی زندگی کی بقا بھی سوالیہ نشان بن جائیگی ۔ درجہ حرارت بڑھنے سے برف کی صورت جہاں موجود پانی کے ذخائر گلیشیرز کے پگھلنے سے دریاؤں کے کناروں پر آباد ایک ارب سے زائد آبادی کے متاثر ہونے اور ٍاڑھائی لاکھ افراد کے موت کے منہ میں چلے جائینگے.

پانی ِ خوراک اورصاف ستھرے ماحول کی عدم دستیابی یقینی طور پر دنیا کے وجود کی بقا کیلئے خطر ناک ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صورتحال ایسی ہی رہیگی اور ایک دن دنیا اپنا وجود بغیر مزاحمت ہی کھو بیٹھے گی۔ بہتری کی کوئی صورت،کوئی کوشش اور کوئی منصوبہ نسل انسانی کے مقدر میں نہیں ۔ ایسا ہر گز نہیں ہے ۔ اگر ہم عالمی سطح پر پھیلی بدانتظامی پر قابو پالیں ۔ قدرت کی جانب سے بخشا گیا لامحدود عقل کا خزانہ اور محدود خودمختاری کا بھرپور استعمال کریں تو یقین جانیئے یہ دنیا بہت بڑی اور آبادی سے جڑے مسائل بہت لا یعنی ہیں۔

جب ہم 22 ویں صدی میں پانی کی کمی کو لیتے ہیں تو35 فیصد صاف پانی کے ذخائرکو بھول جاتے ہیں جوگلیشئرز کی صورت آئندہ آنے والے سالوں کیلئے لاکھوں سالوں سے محفوظ ہیں ۔درجہ حرارت بڑھنے سے غیر معمولی رفتار سے پگھلنے والے یہ گلیشئرجہاں سمندر کی سطح بڑھانے کا موجب بن رہے ہیں ، وہیں 57 ہزار موجود اور زیر تعمیر ڈیموں کو بھرنے کا سبب بھی بنیں گے۔ پانی کی کمیابی کو دیکھتے ہوئے یہ ماننا پڑے گا کہ سنگین مسئلے سے نمٹنے کیلئے دنیا کی تیاری بھی زوروں پر ، مختلف تحقیقات میں پانی کی بچت کیلئے تفویض کئے جانے والے اقدامات میں آبپاشی نظام کو جدید انداز میں اپنانے اور اسراف سے بچنے کیلئے رساؤ روکنے کی تجاویز کے ساتھ ساتھ پانی کے ذخیروں کی حفاظت پر بھی زور دیا جارہا ہے ۔ ماہرین زیادہ پانی سے پیدا کی جانے والی فصلوں کی حوصلہ شکنی کی طرف بھی متوجہ کررہے ہیں ،جبکہ ہائیڈرو تھرمل سے بجلی پیدا کرنےکی بجائے دیگر سستے ذرائع مثلاً سولر اور ونڈز کے استعمال پر زور دیا جارہا ہے، واضح رہے کہ 2100 تک ہائیڈوبجلی کی موجودہ پیداور حاصل کرنے کیلئے 15فیصد اضافی پانی کی ضرورت پڑے گی۔حفاظتی ذخیرےاس وقت دنیا کے کئی ممالک کی سنجیدہ حکمت عملی کی ترجیح ہیں۔صرف پاکستان ، بھارت ، چین اور نیپال میں ہی 400 سے زیادہ ڈیم زیر تعمیر ہیں، دوسری جانب پانی کے بڑے ذخیرے گلیشئر کو پگھلنے سے روکنے کیلئے بھی اقدامات تفویض کئے جارہے ہیں ، ماہرین کے مطابق اگرکرہ ارض کے بڑھتے درجہ حرارت کو1.5 سے 2 فیصد بڑھنے تک محدود کردیا جائے تو گلیشئرز کی غیر معمولی رفتار سے پگھلنے کی شرح میں کمی ہوجائیگی ۔

درجہ حرارت میں اضافے اور کرہ ارض کو بدلتےموسمی اثرات سے بچانے کیلئے جاری منصوبہ بندی کے نتیجے میں 2040 تک دنیا کے 37 فیصد توانائی ذرائع تیل اور گیس سے شمسی توانائی اور ونڈ پر منتقل ہو جائینگے۔ نتیجتاً بڑھتی آلودگی پر قابو پاکردنیا کو یقینی طور پر محفوظ بنایا جاسکے گا۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی فضا میں بڑھتی مقدار اور اس سے جڑی بیماریوں سے نمٹنے کیلئےو صحت کے میدان میں بڑھتی ہوئی جدت اور جدید طریقہ علاج کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے غذائی معیار سے مدد ملے گی ۔ ایک طبی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہےکہ 80 فیصد آبادی کی دیہات میں ناکافی سہولیاتکے سبب شہروں کی جانب مراجعت اور دستیاب علاج معالجے کی بہترین سہولیات کے پیش نظر دنیا کی اوسط عمر بڑھ کر 81 سال ہو جائیگی۔

ورلڈ بینک رپورٹ کے مطابق دنیا کے کل رقبے کا ایک تہائی کاشت کیلئے مختص رقبے میں سے صرف دس فیصد زیر استعمال ہے ۔ یعنی کہ کاشت کیلئے مختص90 فیصد اراضی کو بھی قابل کاشت بنایا جاسکتا ہے۔ جبکہ 40فیصد رقبے پر پھیلے جنگلات کو بھی خوراک کی کمی دورکرنے کیلئےکسی حد تک کاٹا جاسکتا ہے،جدید طریقہ کاشت کاری، فرٹیلائزر کے بہترین استعمال اورکم رقبے پر زیادہ فصل دینے والے اجناس کاشت کرکے بھی خواراک کی ممکنہ کمی سے نمٹا جاسکتا ہے ۔ ہماری خوراک کا بڑاحصہ گوشت حاصل کرنے والے جانوروں سے لیا جاتا ہے، جانوروں کی افزائش کیلئے ہماری قابل کاشت اراضی کا بڑا حصہ زیر استعمال ہے گوشت پر انحصار کم کرکے اور سبزیوں ، اجناس سے رجوع کرنے سے بھی ہم قابل کاشت رقبہ بڑھا سکتے ہیں ۔ چین میں گوشت کی پیدوار کم کرکے سبزیوں اور زرعی اجناس کی کاشت میں اضافہ کیا جارہاہے ۔ دنیا میں غیر منصفانہ زرعی پیدوار کے سبب 40 فیصد خوراک کھائی نہیں جاتی بلکہ ضائع کردی جاتی ہے، یعنی کہ غیر مقبول خوراک کی کاشتکاری کی حوصلہ شکنی کرکےکھائے جانے والے اجلاس کی پیداوار پر زور دیا جائے تو بھی خوراک کی کمی کے مسئلے سے نمٹ سکتے ہیں۔یورپ میں ضائع ہونے والی خوراک کو قابل استعمال لاکر ممکنہ کمی کے مسئلے سے نمٹنے کی بنیاد بھی رکھی جارہی ہے۔

نئی صدی میں دنیا کو بڑھتی آبادی سے لاحق خودساختہ خطرات میں سے ایک رہائشی سہولت کی کمیابی بھی ہے۔ ہماری دنیا کی کل آبادی زمین کے 10فیصدی رقبے پر بستی ہے۔ جائزے کے مطابق 2100میں11بلین لوگو13.4بلین ہیکٹر رقبہ ( آئس فری ) دستیاب ہوگا۔ کم وسائل کے حامل دیہی آبادیاں تیزی سے شہروں کی جانب ہجرت کررہی ہیں ، بڑھنے والے دباؤں سے نمٹنے کیلئے نئے شہروں کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔ دنیا کی کل آبادی کا 54فیصد اس وقت25لاکھ چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں آباد ہے ، جبکہ 2100میں سہولتوں کی فراوانی کے سبب یہ تعداد بڑھ کر 80فیصد سے تجاوز کرجائیگی۔

تاریخ کے ذکر میں 22ویں صدی درحقیقت ٹیکنالوجی کی صدی ہوگی، آنے والے دنوں میں بیشتر مسائل پر ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی قابوپالیاجائیگا،22ویں صدی میں  سمارٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈیڑ ھ ڈیڑھ کلومیٹر بلندرہائشی کمپلیکس جن میں لاکھوں لوگ آباد ہونگےمضبوط بنیادوں پر کھڑے کردیئے جائینگے۔ آبادی کا پورا کا پورا یک جنگل خود میں سمونے والے یہ بلند وبالا شہردنیا کی ہر انسانی سہولت سے آراستہ ہونگے۔ کچھ عرصے قبل تیرتے شہروں سے متعلق نیدر لینڈ میں ہونے والی پیشرفت سے متعلق خبر سامنے آئی جہاں زیادہ سے زیادہ  10 ہزار نفوس کو سمایاجا سکتا ہے ، مگر آج سے ٹھیک سوسال بعد دس دس لاکھ کی آبادی والے بحری بجروں پر قائم شہروں کا ایک جنگل آباد ہوچکا ہوگا ،جہاں جنگلات ، کاشت کاری سمیت تمام سہولیا ت دستیاب ہونگی ۔ سمندر میں تعمیر کئے جانے والےیہ شہر خشکی کے شہروں سے کئی گنا زیادہ سونامی اور زلزلہ پروف ہونگے۔

جاری ہے ۔