ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی


واشنگٹن(24نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کردی اور کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم سے اس ہفتے ملاقات میں کشمیر پر بات کروں گا۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ کشمیرایک پیچیدہ مسئلہ ہے وہاں ہندو بھی ہیں اورمسلمان بھی، میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ دونوں وہاں بہت اچھے طریقے سے رہ رہے ہیں. 

اوول آفس میں امریکی صدر نے صحافیوں کو بتایا کہ سچ پوچھیں تو کشمیر میں صورت حال انتہائی کشیدہ ہے، پاکستان اور بھارت کی آپس میں ایک طویل عرصے سے نہیں بنی، کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑائیاں ہو چکی ہیں، کوئی ہلکی پھلکی لڑائی نہیں بلکہ بھاری اسلحہ استعمال ہوتا آیا ہے، میری عمران خان اور نریندر مودی دونوں سے بات ہوئی ہے، میرے دونوں رہنماؤں سے اچھے تعلقات ہیں لیکن ان کی آپس میں دوستی نہیں ہے، مسئلہ کشمیر کی بڑی وجہ مذہب ہے اور مذہبی معاملات پیچیدہ ہوتے ہیں۔

ادھر امریکی محکمہ خارجہ کی ایک اعلیٰ عہدے دار نے خطے کے دورے سے واپسی کے بعد منگل کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کی پابندیاں ہٹائے، بنیادی شہری آزادیاں بحال کی جائے اور گرفتار کشمیری رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔امریکی عہدے دار کا کہنا تھا کہ امریکا کو مقبوضہ کشمیر میں گرفتاریوں اور وہاں کے شہریوں کو قید رکھنے کی اطلاعات پر تشویش ہے، ہم بھارت پر زور دیتے ہیں کہ وہ شہریوں کے انفرادی حقوق کا احترام، قانونی طریقہ کارکی پابندی اور اس مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کرے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دونوں میں پاک بھارت وزرائے اعظم سے فون پر بات کی ہے اور ان پر کشمیرکے معاملے پر کشیدگی میں کمی لانے پرزور دیا ہے، امریکا کو بھارتی تحفظات کا علم ہے تاہم خطے کے حالات کو معمول پر لانے کے لیے جلد از جلد اقدامات کیے جائیں۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔