کسی کو حق نہیں کہ وہ فیصلہ کرے کہ اگلا وزیراعظم کون ہوگا: خورشید شاہ


پنو عاقل (24 نیوز) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ نواز شریف یا کسی کو حق نہیں کہ وہ فیصلہ کرے کہ اگلا وزیراعظم کون ہوگا یہ حق ملک کے بیس کروڑ عوام کا ہے اور وہی فیصلہ کریں گے کہ اگلا وزیراعظم شہباز شریف ہوگا، بلاول ہوگا یا عمران خان۔

سکھر کی تحصیل پنوعاقل کے گاؤں کمال خان انڈھڑ میں جے یو آئی سندھ کے رہنما اور علاقہ کی معزز شخصیت سردار علی گوہر خان انڈھڑ کی جے یو آئی چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سید خورشید احمد شاہ نے کہا لوگ مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ پارلیمینٹ کیوں خالی ہے تو میں جواب دیتا ہوں کہ نواز شریف نے پارلیمینٹ کو اہمیت نہیں دی جس کی وجہ سے وہ کہتے پھر رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا اور آج ان کے وزیر پارلیمینٹ کو اہمیت نہیں دیتا ایک بولتا ہے کہ مجھے کیوں نکالا دوسرا بولتا ہے مجھے کیوں بلایا۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ بھٹو نے پھانسی پر چڑھنے سے پہلے یہ نہیں پوچھا کہ مجھے کیوں یہ سزا دی گئی، بینظیر نے یہ نہیں کہا کہ مجھے کیوں مارا پیپلزپارٹی نے تو اس ملک و قوم اور جہموریت کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں بھٹو زندہ ہوتے تو فاٹا کب کا پاکستان کا حصہ بن چکا ہوتا لیکن انشاء اللہ فاٹا کو پاکستان میں شامل کرنے کا کریڈٹ بھی پیپلزپارٹی کو ملے گا۔

خورشید شاہ نے کہا کہ ملک کی تمام جماعتیں ملک و قوم کے لیے جان و مال کی قربانی دینے کا دعوی کرتی ہیں مگر کسی نے جان تو دور مال تک کی قربانی نہیں دی بلکہ جان و مال کو لوٹا ہے۔ پیپلزپارٹی واحد جماعت ہے جس نے جانیں بھی دی ہیں اور مال بھی دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کو سزا دینے والا آج تن تنہا گھوم رہا ہے اور خود کو لیڈر کہلوا رہا ہے مگر کوئی ایسے ہی لیڈر نہیں بنتا قربانیاں دینا پڑتی ہیں، ہم نے بھٹو، بینظیر، مرتضے اور شاہنواز تک کی قربانی دی ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بھٹو نے اس ملک میں امیر اور فقیر کے ووٹ کو مساوی اہمیت دلانے کی کوشش کی اسی وجہ سے لوگ انہیں پیر مانتے ہیں اور عوام کی بات کرنے والا ہی پیر ہوتا ہے۔ بھٹو نے سات سال کی عمر میں گورنر بمبئی سے ملاقات کے دوران لوگوں کی بات کی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور اس کا جھنڈہ اس ملک میں جہموریت، خوشحالی، ترقی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، اگر اسے اقتدار کی سیاست کرنا ہوتی تو محترمہ بینظیر بھٹو دہشتگردی کے ایک حملے کے بعد واپس نہ آتیں۔