صدر سے اختلافات،وزیر دفاع مستعفی ہوگئے



واشنگٹن( 24نیوز ) صدر آہستہ آہستہ تنہا ہونے لگے،قریبی ساتھی اور وزرا باری باری چھوڑنے لگے۔

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے سے بیزار ہوکر کابینہ چھوڑ دی، وہ فروری تک اس عہدے پر کام کریں گے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر کو لکھے گئے اپنے خط میں جیمز میٹس نے ٹرمپ کو مخاطب کرکے لکھا کہ آپ کو حق ہے کہ آپ اپنی سوچ سے ہم آہنگ شخص کو وزیر دفاع بنائیں، لہذا بہتر یہی ہوگا کہ میں وزیر دفاع کا عہدہ چھوڑ دوں۔

واضح رہے کہ جیمز میٹس کو وزیر دفاع بنانے کے لیے کانگریس سے خصوصی اجازت حاصل کی گئی تھی،تاہم محکمہ دفاع ( پینٹاگون ) کی جانب سے جیمز میٹس کا خط جاری کرنے سے قبل ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں ان کی ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔

ٹرمپ نے لکھا، 2 برس تک عہدے پر کام کرنے کے بعد جنرل میٹس فروری میں مستعفی ہوجائیں گے، جنرل میٹس نے اتحادیوں اور دیگر ممالک کو اپنی فوجی ذمہ داریاں ادا کرانے میں میری مدد کی، نئے وزیر دفاع کے نام کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer