پانامہ فیصلہ میں نواز شریف کو گاڈ فادر، سسلیئن مافیا نہیں کہا: جسٹس آصف کھوسہ

پانامہ فیصلہ میں نواز شریف کو گاڈ فادر، سسلیئن مافیا نہیں کہا: جسٹس آصف کھوسہ


اسلام آباد (24 نیوز) جسٹس سپریم کورٹ آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ حکومت پارلیمنٹ میں نوازشریف کے لیے گاڈ فادر کا لقب استعمال کر رہی ہے۔ سسلین مافیا کے متعلق ریمارکس کو غلط تاثر دیا گیا۔

سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے ایک کیس کی سماعت کے دوران جسٹس آصف سعید کھوسہ نےریمارکس دیئے کہ آج کل وطیرہ بن گیا ہے جو بات عدالت نے نہیں کی ہوتی وہ چلا دی جاتی ہے۔

انھوں نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ نے پاناما فیصلہ پڑھا ہے، اس فیصلہ میں کہاں لکھا ہے کہ نوازشریف گاڈ فادر ہیں۔ حکومت پارلیمنٹ میں خود نوازشریف سے گاڈ فادر کا لقب منسوب کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: میاں نواز شریف پارٹی صدارت کیلئے نااہل قرار
 
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مزید ریمارکس دیئے کہ سسلین مافیا کے متعلق ریمارکس کو غلط تاثر دیا گیا۔ پاناما پیپرز کیس کے فیصلہ میں کہیں بھی ’گاڈ فادر‘ کا لفظ نہیں ہے۔ انھوں نے 'سسلین مافیا' کے ریمارکس مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نہال ہاشمی کی عدلیہ مخالف تقاریر کے تناظر میں دیئے تھے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مزید کہا کہ وطیرہ بن چکا ہے کہ جو بات عدالت نہ بھی کہے وہ میڈیا پر چل جاتی ہے۔ سپریم کورٹ سے وہ چیزیں منسوب نہ کی جائیں جو کہی ہی نہ گئی ہوں، جبکہ حقائق سے ہٹ کر بات کی جائے گی تو یہ زیادتی ہوگی۔

سماعت کے دوران جسٹس دوست محمد خان نے ریمارکس دیے کہ گارڈ فادر کے کردار کو منفی بنا دیا گیا حالانکہ گارڈ فادر امیروں کو لوٹ کر غریبوں میں دولت تقسیم کرتا تھا۔