سپریم کورٹ نے تعلیمی معیار کے جائزے کے لیے کمیٹی قائم کردی


لاہور (24نیوز) غیر معیاری لاکالجز سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جائزے کیلئے کمیٹی قائم کردی اورتعلیمی اصلاحات پررپورٹ 6ہفتے میں مرکزی کمیشن کوفراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں غیر معیاری لاکالجز سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی ، چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کی۔

دوران سماعت وائس چیئرمین پاکستان بار نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی ہماری منظوری کے بغیر الحاق نہ کرے،اس پر پرنسپل یونیورسٹی لاءکالج نے کہا کہ کمیٹی میں پنجاب یونیورسٹی کے ٹیچر کو بھی شامل کر لیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم کا یہ معیار نہیں چلے گا، رات ایک تصویر دیکھی کہ ایک رات میں بی اے پاس کریں۔انہوں نے کہا کہ قانونی تعلیم کا معیار بہتر کرنا چاہتے ہیں،قانون کی تعلیم کا ایسا معیار چاہتے ہیں کہ اچھے وکیل پیدا ہوں،پرائیویٹ لاکالجزخلاضرورمکمل کریں لیکن کاروبار نہ کریں۔

سپریم کورٹ نے لاءکالجز کے جائزے کیلئے کمیٹی قائم کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ مرکزی کمیشن اصلاحاتی رپورٹ متعلقہ اسٹیک ہولڈرزکوفراہم کریں اورتمام صوبوں کے چیف سیکرٹریزلاکالجزکمیشن کی معاونت کریں۔

اس موقع پر پرنسپل لا کالج نے تجویز دی کہ کمیٹی میں یونیورسٹی ٹیچرز کو بھی شامل کیا جائے جبکہ وائس چیئرمین پاکستان بار کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی بار کی منظوری کے بغیر لا کالجز سے الحاق نہ کرے.

ویڈیو دیکھیں: