سراج الحق نے نقیب اللہ کے قتل کی تحقیقات کیلئے حکومت کو دس دن کی ڈیڈ لائن دیدی


کراچی (24نیوز)امیر جماعت اسلامی سینٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ نقیب اللہ کے بیہمانہ قتل پر پوری قوم افسردہ ہے،اگرقاتلوں سے قاتلوں والاسلوک نہ ہواتوسمجھیں گے اصل ذمے داروزیراعلیٰ ہے-

امیر جماعت اسلامی نے سندھ حکومت کو 31 جنوری کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ راﺅانوار کو معطل کرنا کوئی سزا نہیں ہے، معطلی اور ٹرانسفر معمول کی کارروائی ہے، جس شخص کے ہاتھوں پر 424 افراد کا قتل ہے اسے عدالت میں دیکھنا چاہتے ہیں،جب تک واقعے کی جوڈیشل انکوائری نہ کرائی جائے کسی اور پراعتماد نہیں کرینگے،یہ صرف محسود قبیلے کا نہیں ہر پاکستانی کا مسئلہ ہے۔

ویڈیو دیکھیں


انہوںنے کہا کہ قاتلوں کی ساتھ قاتلوں والا سلوک نہ ہوا تو سمجھیں گے اصل قاتل وزیراعلیٰ ہے،انہوں نے کہا کہ 31 جنوری کو گرینڈ جرگہ ہوگا جس میں تمام قومیت کے لوگ شرکت کرینگے، ہم ایسی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں جس سے نقیب کے اہلخانہ مطمئن ہوجائیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ نقیب اللہ محسود کا جرم کیاتھا، حکومت کو نقیب اللہ کی ہلاکت کا جواب دینا ہوگا،کراچی کا ہر شخص راﺅ انوار کو قاتل کہتاہے، سراج الحق نے کہا کہ لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کرنا راو انوار کا پیشہ ہے،لوگوں کو گاڑیوں میں ڈال کر قتل کرنا کہاں کا قانون ہے؟،انہوں نے کہا کہ راﺅانوار اتنا ہی بہادر ہے تو اس کو بارڈر پر بھیجا جائے،پورے ملک میں جنگل کا قانون ہے،کوئی بھی محفوظ نہیں ہے-

سراج الحق نے کہا کہ تعداد پوری کرنے کےلئے بے گناہ افرادکو قتل کیاجاتا ہے، جرائم کی دنیا میں رہنے والا شخص غاروں میں رہتا ہے،سوشل میڈیا پر نہیں،انہوں نے کہاکہ ہم ڈرنے اور جھکنے والے نہیں، پاکستان کے ہر مظلوم کے ساتھ ہیں۔