آبادی کا گھوٹالا

 آبادی کا گھوٹالا


(محمد سعید رفیق)جب دنیا میں صرف ایک ارب لوگ بستے تھے یعنی 1778میں تو ماہر اقتصادیا ت تھامس مالتھس نے آباد ی میں اضافے سے وسائل میں کمی کا نظریہ پیش کیا۔ تھامس کے مطابق آبادی کے بڑھنے سے زندہ انسانوں کے معیار زندگی پر اثر پڑتا ہے۔ اسکا کہنا تھا کہ مخصوص زمین اور وسائل کو استعمال کرنے والوں کی تعداد بڑھے گی تومعیار زندگی یقیناً متاثر ہو گا مگر ساتھ ساتھ مختلف قسم کے بحران مثلاً بھوک ،جنگ،سماجی ناہمواری اور ماحولیات سے متعلق المئے بھی جنم لیں گے۔ ماہر اقتصادیات اور سوشل سائنٹسٹ طویل بحثوں کے بعد اس امر پر متفق ہیں کہ شرح پیدائش میں کمی سے اقتصادی صورتحال میں بہتری یقینی ہے، نتیجتاً معیار زندگی بہتر ہوتا اور وسائل کی آسان اورمنصفانہ تقسیم ممکن ہوتی ہے۔ وگرنہ رہنے کیلئے زمین ،پینے کیلئے پانی ،غذا،بہتر ماحول اوردیگر ضروریات زندگی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آج دنیا کی آبادی7.6بلین ریکارڈ کی جارہی ہے جبکہ آئندہ 7 سالوں میں تیز ترین اضافے سے آٹھ بلین کی حد کراس کر جائیگی ۔ ان سات سالوں میں آبادی 1.1 فیصد کی شرح نمو سے سالانہ 83ملین بڑھے گی۔ اضافے کی رفتار پر صرف یہیں تک بس نہیں بلکہ 2050میں 9بلین اور 2100میں 11بلین سے زائد آبادی کا تخمینہ لگا یا گیاہے،2100میں 30فیصد سے زائد آبادی 65سال سے زیادہ عمر والے افراد پر مشتمل ہو گی جبکہ اس وقت بھی دنیا میں ریٹائرڈ افراد کی تعداد ایک بلین کے قریب ہے۔آئندہ 82 سالوں میں دنیا کی آبادی میں 3.4 بلین کا اضافہ ہوگا، جبکہ اس سے قبل1900سے لیکر2000تک کے سوسالوں میں دنیا کی آبادی میں 4ارب کااضافہ ہوا تھا اس کا مطلب یہ ہوا کہ 200سالوں بھرپور کوششوں کے باوجود آبادی میں تیز رفتار اضافہ نہیں روکا جاسکا، باوجود اس کے کہ سو سال پہلے پانچ بچے پیدا کرنے والی عورت تین بچے پیدا کرنے لگی ہے اور 2100 میں یہ اوسط مزید کم ہوکر2بچوں تک محدود ہو جائیگی۔ آبادی میں غیر معمولی اضافہ ایک ایسے وقت میں ریکارڈ کیا جارہا ہے جب ہزارہا کوششوں اور عوامی آگاہی کے بعد سالانہ شرح پیدائش کوایک اعشاریہ 20 فیصد تک رکھنے میں کامیابی ملی ہے ۔

غیر معمولی رفتار سے بڑھنے والی آبادی نے یقینی طور پر سیکڑوں مسائل کو جنم دیا ہے، جن میں سرفہرست پانی ،زرعی وسائل کی کمی اور ماحولیات سر فہرست ہیں۔بڑھتی آبادی کے ساتھ پانی کی قلت سب سے بڑا مسئلہ ہے ، دنیا میں ایک ارب لوگ صاف پانی جبکہ دو ارب کے قریب واش رومز کی سہولت سے محروم ہیں۔پانی کی کمی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا خطہ سب صحارا کا ہے۔ صاف پانی نہ ملنے سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر ہر 21 سیکنڈ بعد ایک موت واقع ہورہی ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق بڑھتی آبادی کے سبب دنیا کا درجہ حرارت 2050 تک 1.5 سے4.5 ڈگر ی سینٹی گریڈ تک بڑھ جائیگا۔اسی طرح تلف نہ کئے جانے والے کچرے کا ڈھیر بھی ماحولیات کیلئے بڑاخطرہ ہے ۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ فاسفیٹ کی مقدارمیں بھی اضافہ ہورہا ہے اور اسی طرح جنگلات کی کٹائی بھی بڑھ رہی ہے جبکہ اوزون بھی ایک حقیقت ہے جس سے ماحول ہرسمت سے خطرات میں گھر گیا ہے۔

مگر اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں کم شرح آبادی کے سبب انسانی آباد ی کی ترقی اور غربت سے باہر نکلنے کے مواقعوں میں کمی بھی ایک حقیقت ہے ۔جیسے بیان کیا جارہا ہے کہ 2050میں چین کی آبادی میں کمی کے ساتھ ہی پانچ فیصد چینی معیشت بھی شرنک کرجائیگی جس کا حجم یقینی دور پر ٹریلین ڈالرز ہوگا۔ اسی طرح آئندہ چالیس سالوں میں یورپ کی شرح آبادی میں کمی سے معیشت کا حجم ایک فیصد کم ہو جائیگا جبکہ شرح آبادی میں مزید کمی کے سبب جاپانی معیشت کا حجم بھی17فیصد تک کم ہو جائیگا۔ معاشی حجم کے سکڑنے کی بنیاد ی وجہ کم آبادی کے سبب اشیائے ضروریہ کی طلب ورسد میں کمی ہے۔ یعنی کم شرح آبادی والے ممالک میں ضروریات اشیا کی پیداوار،فروخت اور خریداری پر اثر پڑتا ہے جو براہ راست جی ڈی پی کی سالانہ شرح کو متاثر کرنے کی وجہ بنتا ہے ۔ آبادی میں اضافے کے سبب صاف پانی ، کاشت اور رہا ئش کیلئے درکار زمین ، ستر چھپنانے کو کپڑا اورغذاکے حوالے سے بڑھتی ضروریات کے سبب قدرتی وسائل کا بے دریغ خرچ بڑھتاہے۔ جس کے مثبت اثرات یقینی طور پر پیدوارا اور کاروبار میں نمو کی صورت نکلتے ہیں۔

یورپ کے اکثر ممالک میں پیدائش کی شرح میں کمی اور عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے سبب لیبرفورس کی شارٹج بڑے بحران کا کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے ۔ نتیجے میں پیداوار میں کمی کا خدشہ بحر طور موجود ہے۔ یورپی ممالک کے اکثر شہروں میں آبادی میں تیزی سے آنے والی کمی انتہائی اہم ہے۔ 2017سے 2025 کے درمیانی عرصے سے متعلق کئے گئے سروے میں 28یورپی ممالک کے 264میں سے 184یونٹس میں ورکنگ ایج گروپ ( کام کرنے والے افراد) میں تیزی سے کمی نوٹ کی گئی۔ بتا یا گیا ہے کہ 2025کے بعد یورپی یونین ممالک کے 1/5 شہروں کی آبادی زیادہ تر65سال یا اس سے زائد عمر کے افراد پر مشتمل ہوگی ۔کام کرنے والے 15سے 64سال کی عمرکے افراد کے مقابلے میں عمر رسیدہ65سال یا اس سے زائد عمر کے شہریوں کی تعداد آبادی کا 35فیصد سے زائد ہو جائے گا۔ آباد ی کی شرح میں آنے والی اس نامناسب اور غیر متوقع تبدیلی سے قابل آمدنی لوگوں اور مجموعی قومی شرح نمو پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ جبکہ بزرگ افراد کی بڑھتی تعداد نے پنشن فنڈز اور ہیلتھ کیئر کے منصوبوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے ۔

بڑھتی ہوئی آبادی کا ایک حوالہ بڑی منڈیاں اور بازار بھی ہیں ۔ جنھوں نے کل کے ترقی پزیر ممالک کو آج اور آنے والے کل عالمی اقتصادی طاقت بنادیا۔حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق آئندہ آنے والے گیارہ سالوں میں دنیا کی زیادہ آبادی والے ممالک چین اور بھارت صف اول کی معاشی طاقت امریکہ کو پچھاڑ دیں گے۔ سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے مطابق 2020 کوامریکی معیشت کے عروج کا آخری سال قراردیا ہے، جس کے بعد چین دنیا کی معاشی سپر پاور کے روپ میں سامنے آئے گا ، چین کی بڑی معیشت میں جہاں اس کی بہتر معاشی پالیسیوں اور اعلیٰ ظرف اور صابر قیادت کا ہاتھ ہے وہیں ڈیڑھ ارب انسانوں کی دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ کا بھی حصہ ہے ۔

دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی اس وقت براعظم ایشیا میں بستی ہے جو تقریباً ساڑھے 3 ارب کے قریب ہے ۔ بھوک ،غریب ، جنگ اور بیروزگای جیسے بھیانک مسائل کی زیادتی اور اسباب کی کامیابی کے باوجودبراعظم ایشیادنیا کی 35فیصد اقتصادی طاقت کا مالک ہے۔ جبکہ چھ ایشیائی ممالک آج دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں شمار ہورہے ہیں۔ درحقیقت یہی وہ آبادی کا گھوٹالا ہے جسے ایک ڈر کی صورت مشرق پرمسلط کرکے مغرب اپنی بقا کا سامان پیدا کررہا ہے۔ ایشیا،افریقہ اور لاطینی امریکہ کے بڑھتی آبادی اور گنجان خطے کس طرح طاقت کے توازن پر اثر انداز ہورہے ہیں اگلے بلاگ میں ملاحظہ کیجئے۔