”مارگلہ پہاڑیوں پر جانیوالوں کے منہ نہ سونگھے جائیں“

”مارگلہ پہاڑیوں پر جانیوالوں کے منہ نہ سونگھے جائیں“


اسلام آباد( 24نیوز ) سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ساہیوال واقعہ کی تحقیقات کے لیے قائم جے آئی ٹی پر تحفظات کا اظہار کر دیا،کمیٹی نے واقعہ کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا،چیئرمین کمیٹی رحمان ملک کا کہنا ہے عمران خان سے بطور وزیرداخلہ یہ کمیٹی پوچھ رہی ہے کہ کیا ملک میں داعش ہے یا نہیں،اگر ذیشان دہشتگرد تھا تو سی ٹی ڈی نے حراست میں لینے کے لیے کونسی کوششیں کیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر رحمان ملک کی زیر صدارت شروع ہوا تو آغاز میں ساہیوال واقعہ میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ کمیٹی نے سانحہ ساہیوال پر بننے والی جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا سانحہ ساہیوال انتہائی دردناک ہے انصاف لینے تک سینیٹ کمیٹی اسکی پیروی کرتی رہیگی۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے ممبران نے واقعے کی تفتیش کیلئے بنائے گئے گیارہ سوالات پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی پولیس اور ہوم سیکرٹری پنجاب کمیٹی کو ایک ہفتے میں سانحہ ساہیوال پر جامع رپورٹ پیش کرے،سینٹ قائمہ کمیٹی داخلہ نے ایف آئی اے سے انسانی سمگلرز کیخلاف کارروائیوں سمیت مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات میں امریکی سینیٹر کے ساتھ گن مین ہونے پر چیئرمین کمیٹی نے اظہار تشویش کرتے ہوئے وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی اور کہا کہ اس سے پوری قوم کی توہین ہوئی ہے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین رحمان ملک نے اسلام آباد انتظامیہ کو مارگلہ پہاڑیوں پر سیر و تفریح کیلئے جانے والوں کے حوالے سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا مارگلہ کی پہاڑیوں پر جانے والوں کے منہ نہ سونگھے جائیں، پولیس جوڑوں سے نکاح نامے مانگنے کے بجائے سیکورٹی بہتر کرنے پر توجہ دے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer