ایک اور لاشہ۔ ۔ ۔

ایک اور لاشہ۔ ۔ ۔


مناظر علی

اٹھیے !۔۔ غریب شہرکالاشہ اٹھایئے

اٹھتی نہیں یہ خاک۔۔۔خدارا!۔۔اٹھایئے

دفناکے اک لاش بہت مطمئن ہیں آپ

اک اورآگئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوبارہ اٹھایئے

قصورسے واپس لاہورآتے ہوئےہم فیروزپورروڈپربدترین ٹریفک جام میں پھنس گئے،خاصے انتظارکے بعد ٹریفک ایک بالشت بھی آگے نہ بڑھی توتشویش ہوئی کہ یہ معمول کی ٹریفک جام نہیں بلکہ معاملہ کچھ اورہوسکتاہے،خیر!پتہ کرنے پرمعلوم ہواکہ ساہیوال میں ایک مشکوک مقابلے میں چارانسانی جانوں کے ضیاع کیخلاف احتجاج ہورہاہے اورٹریفک کھلنے کی قریب قریب کوئی امیدبھی نہیں، مختلف ذرائع سے بات کرکے معلوم ہواکہ ایک بار پھر وہی ہواجویہاں ہمیشہ سے ہوتاآیاہے،جی ٹی روڈاڈہ قادر ساہیوال میں سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نےچارافرادکوان کے بچوں کے سامنے گولیوں سے بھون ڈالااورمرنے والوں کوپہلے دہشتگرداورپھردہشتگردوں کاسہولت کارقراردیدیا،حالانکہ عام طورپر یہی دیکھاگیاہے کہ اگرایساکچھ ہوتوملزمان سے اسلحہ یاکچھ مشکوک اشیاء برآمدہوتی ہیں جن سے ان کے متعلقہ جرم میں ملوث ہونے کاپتہ چلتاہے اوریہاں صورتحال بالکل مختلف تھی،یہ کیسے دہشتگرد تھے جن کی گاڑی سے گولیاں برسانے کے جواب میں کوئی مزاحمت نہیں ہوئی؟؟؟۔۔دہشتگردتواورکچھ نہ بن پائے توخود ہی کواڑا دیتے ہیں لیکن ایسانہ ہوا،جب گولیوں کی بوچھاڑ ختم ہوئی توگاڑی سے کپڑوں کےتین بیگ برآمدہوئےاورتین چھوٹے بچے معجزانہ طورپربچ گئے،جوسکتے کے عالم میں تھے اورزبان حال سے یہی سوال کررہے تھے کہ ہمارے والدین کوکس جرم میں قتل کیاگیاہ؟ہمیں کیوں یتیم کیاگیا؟ہماراقصورکیاتھا؟ہماری خوشیوں پرخوش رہنے والے والدین نےآخرکسی کاکیابگاڑاتھا؟؟ہم توشادی پرجارہے تھے ہمیں قبرستان کے راستے پرکس نے چلادیا؟ کہیں ہمیں بھی تونہیں مارناچاہتے؟؟۔۔

یہ کیسے دہشتگرد تھے جوسج دھج کرشادی پرجارہے تھے؟؟کیادہشتگرد بھی خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں؟؟؟۔۔ زخمی ہونے والے بچے عمرخلیل نے میڈیاکوبتایاکہ وہ اپنے چچاکی شادی میں شرکت کے لیے بوریوالا گاؤں جارہے تھے،کارمیں اس کے والدخلیل،والدہ نبیلہ،بڑی بہن اریبہ اوروالدکے دوست سوارتھے جوسب مارے گئے۔

میں یہاں مرنے والوں کے محلے داروں کاموقف ضروردیناچاہوں گاجومیڈیارپورٹس میں سامنے آیاہے،ان کاکہناہے کہ وہ تیس سال سے انہیں جانتے ہیں،نمازی اورپرہیزگارلوگ تھے،احتشام نامی ایک بھائی ڈولفن کااہلکاربھی ہے۔میڈیاپرچلنے والے عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق گاڑی لاہورکی جانب سے آرہی تھی جسے دیکھتے ہی ایلیٹ فورس نے روکا اورپھرفائرنگ شروع کردی،باقی سب تومارے گئے مگرتین بچے محفوظ رہےجواپنے والدین کوموت کے گھاٹ اترتے اپنی معصوم آنکھوں سے دیکھتے رہے،پولیس بچوں کو پہلے پٹرول پمپ پرچھوڑگئی اورپھروہاں سے ہسپتال منتقل کردیا۔

ہربارایسے کسی واقعہ،کسی غلطی کے بعدپولیس اپناموقف پیش کرتی ہے جس میں عام طورپران کی مبالغہ آرائی اورخاص اندازہوتاہے،اس باربھی ترجمان کے میڈیاپرچلنے والے بیان میں یہ چیزسامنے آئی کہ"ہفتے کی دوپہر بارہ بجے کے قریب ٹول پلازہ کے پاس سی ٹی ڈی ٹیم نے ایک کار اورموٹرسائیکل کوروکنے کی کوشش کی جس پرکارسواروں نے پولیس ٹیم پرفائرنگ شروع کردی،سی ٹی ڈی نے اپنے تحفظ کے لیے جوابی فائرنگ کی جس میں دوخواتین سمیت چاردہشتگرہلاک پائے گئے جب کہ تین دہشتگردفرارہوگئے۔۔

اہلکاروں نے جوکرناتھاکرلیا،کیوں کیا؟۔۔۔کس کے اشارے پرکیا؟کس نے حکم دیا؟۔۔۔کس غلط انفارمیشن پراتنی بڑی غلطی ہوئی یہ توشفاف تحقیقات کسی ایماندارافسرسے ہوں گی تودودھ کادودھ اورپانی کاپانی ہوگاورنہ پہلے کی طرح یہ کیس بھی بنداورپھرمیڈیااورعوام کوکسی اوردھیان لگادیاجائے گاجیساکہ ہمارے ہاں روایت ہے۔۔بحرحال وزیراعظم نے سابق ادوارکے وزراء اعظم کی طرح رپورٹ طلب کرلی ہے اب سابق ادواراوراس بارمیں فرق تحقیقات کے بعدہی واضح ہوگاکہ یہ معمول کی رپورٹ طلب کی ہے یاپھرمتاثرین کوانصاف ملے گااورقصوواروں کاتعین ہوگا۔

اس افسوسناک واقعہ نے محکمہ انسداددہشتگردی کے اہلکاروں پربھی کئی سوال پیداکردیئے ہیں۔ملزمان کوان کے بچوں کے سامنے گولیاں مارنادرست تھا؟؟۔۔اگردہشتگرداصلی تھے تو بچوں اورخواتین سے پولیس کوکیاڈرتھا؟کیاموقع پرمارنے کے علاوہ کوئی اورچارہ نہیں تھا؟عینی شاہدین کہتے ہیں کہ مزاحمت نہیں ہوئی توپھرپکڑنے کی بجائے مارناہی ایک واحدحل تھا؟جب گاڑی کے ٹائرپھٹ چکے تھے توپھرگرفتارکرنے کی بجائے فائرنگ کیوں کی؟ان سوالات کے جوابات کامجھ سمیت یقیناسبھی کوانتظارہے اورمجھے یہ بھی ڈرہے کہ یہ انتظارہی رہے گا،ان سوالات کے جوابات شایدکسی فائل میں ہی بندرہیں اوربے حسی کی دھول اس فائل کوچاٹتے چاٹتے ختم کردے گی۔

نوجوان شاعرراشدامام کاایک شعرجوانہوں نے اس افسوسناک واقعہ پرلکھاہے،پیش کرتاہوں۔

حادثہ ہوتے ہی گھٹتاہے وجود

جانیے! اب کس قدرجاتاہوں میں۔