زلفی بخاری کیس:وزارت دفاع سے جواب طلب

زلفی بخاری کیس:وزارت دفاع سے جواب طلب


اسلام آباد(24نیوز)نیب سے پوچھے بغیر زلفی بخاری کو باہر کیسے جانے دیا؟ حکم کے باوجود ہفتوں ای سی ایل سے نام نہیں نکالا جاتا،اس کیس میں اتنی پھرتی کیوں دکھائی گئی؟اسلام آباد ہائی کوررٹ نے وزارت دفاع کے جوائنٹ سیکرٹری کو ذاتی طور پر طلب کرلیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے معاملہ پر جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو تحریری طور پر بتایا جائے کہ بلیک لسٹ کے حوالے سے کیا قانون ہے؟

یہ خبر  ضرور پڑھیں:  پانامہ لیکس نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے گئے کہ ہمارے پاس توہین عدالت کی درخواست بھی آئی کہ عدالتی حکم کے باوجود ہفتوں ای سی ایل سے نام نہیں نکالا جاتا۔اس کیس میں اتنی پھرتی کیوں دکھائی گئی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ کہ آج ثابت ہو گیا کہ میرا نام ای سی ایل میں نہیں بلیک لسٹ میں تھا۔ مجھے پتا نہیں میرا نام بلیک لسٹ میں کیوں ڈالا گیا۔وزارت داخلہ کے طے شدہ طریقہ کار کے تحت مجھے بابر جانے کی اجازت دی گئی۔
عدالت نے تمام فریقین سے تحریری جواب بھی طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 27 جون تک ملتوی کر دی۔