وزیر اعظم سے فریاد

اظہر تھراج

وزیر اعظم سے فریاد


آپ کو کیسا لگے گا کہ جب آپ کسی کام پر سال بھر محنت کریں اور جب پھل حاصل کرنے کا وقت آئے تو کوئی اور لے جائے، پکی پکائی فصل اٹھا لی جائے، آپ کو اپنی فروخت کردہ اجناس کی رقم ہی نہ ملے یا ایسا ہوکہ آپ کی فصل پر خرچہ تو کئی گنا زیادہ ہو اور آمدن نہ ہونے کے برابر، اور پھر آپ مقروض ہوجائیں، حالانکہ آپ نے دن رات ایک کرکے اِس فصل کو اپنی اولاد کی طرح پالا ہو، ٹھٹھرتی راتوں میں سیراب کیا ہو، آگ برساتی دھوپ میں ہل چلائے ہوں، پیٹھ پر ٹنکیاں اْٹھا کر سپرے کیے ہوں۔ایسا ہوتا ہے ،یہ کسی اور ملک یا ریاست میں نہیں اسی پاکستان میں ہورہا ہے،ایک دو برس کی بات نہیں یہ تو نصف صدی کا قصہ ہے،سندھ میں ایک ’’ہاری‘‘، پنجاب میں ایک کسان، خیبر پی کے میں ایک کاشتکار اور بلوچستان میں ایک نواب، سردار کا پسا ہوا مزارع آج بھی لنگی اور بنیان میں ظالم معاشی نظام کا رونا رو رہا ہے۔

ضلع خانیوال کو ٹوبہ ٹیک سنگ اور جھنگ سے ملانے والے علاقے کا نام جڑالہ ہے،یہا ں کے زمینی پانی کڑوا ہے،جو نہری پانی آتا ہے وہ فصلوں کو سیراب نہیں کرپاتا،یہاں ہر طبقہ کے لوگ رہتے ہیں، زیادہ تر لوگوں کا دارو مدار زراعت پر ہے،یہاں کی زیاد ہ آبادی مختلف چکوک پر مشتمل ہے، چک نمبر13ڈی فارم ،چک نمبر4ڈی فارم اور 13لاٹ کی اراضی محکمہ لائیوسٹاک کی زیر نگرانی ہے یہ اراضی پاکستان بننے سے پہلے لالہ خوشی رام اور کالی داس کی ملکیت تھی ،قیام پاکستان کے بعد دونو ں یہ رقبہ چھوڑ کر بھارت چلے گئے،اس وقت ان کی اراضی کو محکمہ مال کے سپرد کر دیا گیا محکمہ مال نے یہ اراضی کاشت کا ر حضرات کو اس شرط پر دی کہ وہ فصل کاشت کریں فصل کے پانچ حصے کئے گئے جس پر تین حصے کاشتکار کے جبکہ دو حصے محکمہ مال کے ہوں گے مگر یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا، یہ رقبہ محکمہ زراعت اور محکمہ سیڈ کاپوریشن سے ہوتا ہوا محکمہ لائیوسٹاک کے پاس چلا گیا، 1988میں پہلی بار محکمہ لائیوسٹاک نے ا س اراضی کو ٹھیکہ پر دیا،شروع میں اس کا پٹہ اول 300دوئم150اورسوئم75 فی ایکڑ مقررکیا گیا ۔

محکمہ نے اس وقت یہ قانون لاگو کیا کہ جس کے پاس دو گائے اور ایک بھیڑ ہو گئی اس پٹے دار کو بارہ ایکڑ زمین میں چار ایکڑ چارہ لگانے کی اجازت ہوگی اور اس چار ایکڑ کا ٹھیکہ وصول نہیں کیا جائے گا۔ ہر تین سال بعد ٹھیکہ بڑھا دیا جاتا رہا۔ان چکوک میں محکمہ لائیو سٹاک کے زیر نگرانی2810ایکڑ اراضی ہے جس میں2570ایکڑ اراضی پٹہ داروں کے پاس جبکہ 240ایکڑ سکولوں،قبرستانوں۔اور رہائش کے لئے دے رکھی ہے۔

بعض ایسے لوگوں کے پاس پٹہ ہے جن کے پاس دوسرے چکوک میں اپنے ملکیتی رقبہ موجود ہے جو کہ غیر قانونی طریقہ ہے جس کی تصدیق لائیو سٹاک حکام نے بھی کی، اس سب کرپشن کا علم محکمہ لائیوسٹاک عملے کو ہے، بلکہ محکمہ کے لوگ وڈیروں اور جاگیرداروں کے چہیتے لوگوں کی سپورٹ کرتے ہیں، جن غریب لوگوں کا حق بنتا ہے ان سے ناانصافی کی جا رہی ہے ۔سکولوں،قبرستانوں یہاں تک کہ محکمہ کے لوگوں نے اپنے دفاتر پر بھی قبضہ کروا رکھا ہے۔ مگر ان لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی،نیب کے پاس بھی درخواستیں جمع کروائی گئی ہیں،سرکاری حکام ،تحصیل اور ضلعی انتظامیہ دورے کرنے سے آگے جانے کو تیار نہیں،بات یہاں کے نمائندو ں کی جائے تو ان کا تعلق حکمران پارٹی سے ہے،یہاں ہر مرتبہ الیکشن میں ووٹ لینے کیلئے تو سبھی آجاتے ہیں لیکن ان کے مسائل کی طرف توجہ کوئی نہیں دیتا۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم صاحب آپ قوم کیلئے مسیحا بن کر آئے ہیں،ان کی بات سنیں گے اور اس پر عمل بھی کریں گے،آپ نے اپنے انتخابی منشور اور پھر وکٹری سپیچ میں بھی کہا ہے کہ ہم عوام کو رہنے کو چھت،کھانے کو روٹی،کمانے کو باعزت روزگار اور پہننے کو تن کیلئے لباس دینگے،آپ نے زراعت کیلئے ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے،اس ایمرجنسی میں برسوں سے رہنے والوں کیلئے مالکانہ حقوق کا بھی اضافہ کرلیں،جہاں بوند بوند کو ترستے لوگ ہیں وہاں میٹھے پانی کا بندوبست کردیں،جڑالہ کی عوام کو نہری پانی کا پورا حق دلوا دیں،لائیوسٹاک کے عملہ اور غیر قانونی قابضین کے خلاف فوراً کارروائی عمل میں لائی جائے اس اراضی کا پٹہ سسٹم ختم کرکے عوام کو زمین کا مالک بنایا جائے،یہاں کی کرپٹ انتظامیہ اور وڈیروں سے غریبوں کی جاں خلاصی کرائی جائے،اگر ایسا نہیں کرسکتے تو تبدیلی کا نعرہ ہمارے لیے جھوٹا ہی رہے گا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer