کیا قانون دیکھنا صرف سپریم کورٹ کا کام ہے؟ چیف جسٹس

 کیا قانون دیکھنا صرف سپریم کورٹ کا کام ہے؟ چیف جسٹس


لاہور(24نیوز)سپریم کورٹ نے لڑائی جھگڑے کے ملزمان کی عبوری ضمانتیں منظور کر لیں، چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے قابل ضمانت مقدمے میں ملزموں کی ضمانت نہ لینے پر ناراضی کا اظہار کیا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے یاسر خان روکھڑی اور عمرخان روکھڑی کے ضمانت قبل از گرفتاری کیس کی سماعت کی ۔ وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ ملزمان کیخلاف تھانہ ڈیفنس اے میں لڑائی جھگڑے کا مقدمہ درج ہے، مقدمہ میں درج دفعات قابل ضمانت ہیں، اس کے باوجود ہائیکورٹ تک ضمانتیں مسترد کی گئی ہیں۔

  چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قابل ضمانت مقدمے میں عدالت ضمانت مسترد نہیں کر سکتی۔ حیرت ہے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے بھی نہیں دیکھا کہ ضمانت مسترد نہیں ہوسکتی تھی۔

چیف جسٹس نے مزید کہاکہ کیا قانون دیکھنا صرف سپریم کورٹ کا کام ہے؟ اس معاملے میں تو آئی جی نے بھی ایس ایچ اوز کو ہدایات دیدی ہیں کہ ایسے مقدمات میں ایس ایچ او خود ضمانتیں دے سکے گا۔ عدالت نے ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer