پانامہ کیس فیصلہ غیر مناسب تھا:نواز شریف


اسلام آباد( 24نیوز ) سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے خلاف بننے والی جے آئی ٹی پر اعتراضات کے انبار لگادیے،تمام ارکان کو اپنا مخالف قرار دیدیا، اپنا بیان قلمبند کرانا شروع کردیا۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر شریف خاندان کے خلاف ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں جب کہ نامزد تینوں ملزمان نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیکٹا نے عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو الرٹ کردیا 
احتساب عدالت نے تینوں ملزمان سے 127 سوالات پر مشتمل سوالنامے کا جواب طلب کیا تھا، آج سماعت شروع ہوئی تو سابق وزیراعظم نواز شریف نے پہلے سوال میں اپنے عوامی عہدوں کی تفصیلات پڑھ کر سنائیں، نواز شریف نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ 'میری عمر 68 سال ہے، میں وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم پاکستان رہ چکا ہوں۔

پڑھنا مت بھولیں: عام انتخابات 2018 کب ہوں گے؟ الیکشن کمیشن پاکستان نے بتادیا

نوازشریف نے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل سے متعلق جواب دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر جے آئی ٹی تشکیل دی گئی لیکن مجھے جے آئی ٹی کے ممبران پر اعتراض تھا اور یہ اعتراض پہلے بھی ریکارڈ کرایا جب کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے مجھے یہ حق دیتا ہے، جے آئی ٹی ممبران کی سیاسی جماعتوں سے وابستگی ظاہر ہے جس کے ممبران میں بلال رسول سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کے بھانجے ہیں جو (ن) لیگ کی حکومت کے خلاف تنقیدی بیانات دے چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ملک میں سول سروسز اور گورننس کا نظام ٹھیک کریں گے: عمران خان

سابق وزیراعظم نے کہا کہ بلال رسول کی اہلیہ تحریک انصاف کی سرگرم کارکن ہیں،سابق وزیراعظم نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ واجد ضیانے اپنے کزن کے ذریعے جے آئی ٹی تحقیقات کرائیں جب کہ تحقیقات میں ان کی جانبداری عیاں ہے، جے آئی ٹی ممبر عامر عزیز بھی جانبدار ہیں جو سرکاری ملازم ہوتے ہوئے سیاسی جماعت سے وابستگی رکھتے ہیں جب کہ وہ پرویز مشرف دور میں میرے اور فیملی کیخلاف نیب ریفرنس نمبر 5 کی تحقیقات میں شامل رہے۔
مذکورہ کیس کی 18 مئی کو ہونے والی گزشتہ سماعت پر وکیل صفائی خواجہ حارث نے ملزمان کو دیئے گئے سوالنامے پر اعتراض کردیا تھا، جس پر عدالت نے آخری چانس دیتے ہوئے کہا تھا کہ 21 مئی کو ملزمان کے بیانات قلمبند ہوں گے۔

ویڈیو دیکھیں:

نواز شریف نے جواب قلمبند کرواتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے پانامہ کیس میں جو فیصلہ دیا غیر مناسب تھا۔
دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں وکیل صفائی خواجہ حارث کی جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءپر جرح جاری ہے، جس کی آئندہ سماعت منگل 22 مئی کو ہوگی۔
یاد رہے کہ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب کے گواہ تھے اور وہ اپنا بیان قلمبند کروا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔

مزید اس ویڈیو میں:

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں