عمران خان 5 سالوں میں صرف 23 دن پارلیمنٹ آئے

عمران خان 5 سالوں میں صرف 23 دن پارلیمنٹ آئے


اسلام آباد( 24نیوز ) پارلیمنٹ کے رکن کی کم سے کم تنخواہ 84 ہزار روپے ماہوار ہے۔ تین لاکھ روپے کے ایئرٹکٹ واؤ چرز یا 90 ہزار روپے نقد وصول کیے جا سکتے ہیں۔ کسی بھی اجلاس سے دو ایک روز قبل اور ایک روز بعد تک سیشن الاونس جو کم و بیش چار ہزار روپے بنتا ہے وہ وصول کیا جا سکتا ہے۔کل ملا کر یہ رقم اوسطا 60 سے 65 لاکھ بنتی ہے۔ اگر کوئی رکن کسی کمیٹی کا چیئرمین ہو تو اس کی مراعات میں 15 سے 20 لاکھ کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
پانچ سالوں میں سب کم حاضری کا ریکارڈ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قائم کیا ہے، جن کی حاضری محض 23 دن یعنی پانچ فیصد رہی۔ ان کے بعد ن لیگی راہنما حمزہ شہباز ہیں جو صرف 31 دن ایوان میں آئے۔ سب سے کم حاضر رہنے والوں میں پیپلز پارٹی کی فریال تالپور بھی شامل ہیں جن کی حاضری کا تناسب 10 فیصد رہا۔
مسلم لیگ ق کے پرویز الہی بھی سب زیادہ غیر حاضر رہنے والوں میں شمار ہوتے ہیں جو کل 497 دن کی کاروائی میں صرف 67 دن آئے اور ان کی حاضری کا تناسب 13 فیصد رہا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی حاضری بھی محض 15 فیصد رہی جبکہ ایم کیو ایم کے پارلیمانی راہنما فاروق ستار کی حاضری کی اوسط 18 فیصد تھی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے صوابدیدی فنڈسے 150 فیصدزائد خرچ کرڈالے

نواز شریف ایوان سے تنخواہ وصول نہیں کرتے تھے لیکن عمران خان ، حمزہ شہباز، فریال تالپور اور فاروق ستار نے قومی خزانے سے کم و بیش ساٹھ لاکھ روپے وصول کیے۔ تاہم مولانا فضل الرحمان جن کی حاضری 23 رہی خصوصی کشمیر کمیٹی کے چئیرمین اور پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے دیگر ارکان ڈبل مراعات حاصل کیں۔مولانا کو سرکاری سیکیورٹی کے علاوہ پانچ افراد پر مشتمل سرکاری عملہ بھی حاصل رہا ہے۔