زری کا کام زوال پذیر ہونے لگا

زری کا کام زوال پذیر ہونے لگا


حیدرآباد( 24نیوز )ملبوسات کی شان بڑھانے اور خواتین کے ملبوسات کی خوبصورتی کو چار چاند لگانے والا زری کا کام زوال پذیر ہونے لگا ، عید کے قریب آنے کے باوجود بھی حیدرآباد میں زری کے کام سے وابسطہ لوگ مایوس ہیں-

ملبوسات پر دپکے ، شیشے ، موتیوں اور ریشمی دھاگے سے ایک خاص سوئی کے ذریعے ہاتھ سے کیے جانے والے کام کو زری کا کام کہا جاتا ہے ، زری کا کام انتہائی مہارت اور محنت طلب ہے جو اپنی خوبصورت شان رکھنے کے ساتھ ساتھ دور قدیم سے خواتین کے ملبوسات کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتا رہا ہے۔

کمپیوٹرائزڈ ڈیزائن اور پرنٹڈ ملبوسات کی مارکیٹ میں مقبولیت کے بعد زری کا کام انتہائی زوال پذیر ہوگیا ہے ، کاریگر نہ مناسب اجرت پر اس کام کو کرکے ناخوش ہیں جبکہ میٹیریل مہنگے ہونے کی وجہ سے لوگوں کا رجحان بھی اس کام کی طرف انتہائی کم ہوتا جارہا ہے۔

زری کے کام کی زوالی کے بعد کئی کاریگروں نے اس کام سے منہ موڑلیا ہے اور کئی کاریگر اسے مجبوری کے تحت کررہے ہیں ، ملبوسات کو شاہانہ بنانے والے زری کے کام کے اب بس چند ہی شوقین رہ گئے ہیں جو مہنگائی کے باوجود اس کام کی اہمیت کو آج بھی سمجھتے ہیں-

اظہر تھراج

Senior Content Writer