" مستقبل میں پاکستان میں زندگی گزارنامشکل ہو جائےگا"



اسلام آباد(24نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار  کا کہنا تھا کہ  کہ  40 برس تک آنے والے آبی چیلنجز کے بارے میں سب کچھ جانتے ہوئے بھی کسی نے کچھ نہیں کیا ہمیں اس کا جواب چاہیئے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں دو روزہ  بین الاقوامی سمپوزیم 'کرئیٹنگ واٹر سیکیور پاکستان ' اپنے اختتام کو پہنچ گیا، اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ  پانی نہ ملنے کا مطلب زندگی کا خاتمہ ہے اور میں اپنے بچوں کو پانی سے محروم کرنے کو تیار نہیں ہوں، 40 برس تک آنے والے آبی چیلنجز کے بارے میں سب کچھ جانتے  ہو ئے کسی نے کچھ نہیں کیا ہمیں اس کا جواب چاہیئے،اگر آج اقدامات نہیں کیے تو آنے والے دنوں میں پاکستان میں زندگی انتہائی مشکل ہو جاے گی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کاکہنا تھا کہ اگر عوام کو ان بنیادی حقوق سے آگہی فراہم کر دی جاے تو بہت بڑا کام ہے، ہمیشہ عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی کی جدوجہد کروں گا،آئین واضح ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام کو بنیادی حقوق فراہم کریں اور عدلیہ بطور کسٹوڈین فراہمی کی نگرانی کرے،  اگر کسی نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تو یہ ہماری ذمہ داری ہے۔

علاوہ ازیں ان کا مزید کہنا تھا کہ سمپوزیم میں تھوڑی مایوسی ہوئی کیونکہ مدعو کئے جانے کے باوجود ایگزیکیٹو صرف ابتدئی  نشستوں میں شامل ہوئی حالانکہ انہیں یہاں نوٹس لینا چاہئیں تھے،  سمپوزیم کے اختتام پر 20 نکاتی اعلامیہ میں پیش کیا گیا۔ 

اظہر تھراج

Senior Content Writer