" ملک چلانا کرکٹ میچ جیسا نہیں ہوتا"



راولپنڈی(عثمان جاوید )چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹونے وزیراعظم سےمستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا، ان کا کہناتھا کہ ملک چلانا کرکٹ میچ نہیں،حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی، اسی ایجنڈے پرمولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہیں،غیرجمہوری رویہ اپنایا تومخالفت کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق  بلاول بھٹو زرداری نے آصفہ اور وکلاء کی ٹیم کے ہمراہ آصف زرداری سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی ، میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو نے آصف زرداری کی طبیعت ناسازہونے کا بتایا اورکہاکہ ان پراورخاندان پردباؤڈالاجارہا ہے، تاہم کسی صورت نہیں جھکیں گے،سابق صدر کل عدالت میں پیش ہوں گے امید ہے عدالت ہم سے انصاف کرے گی،موجودہ حکومت کوگھربھیجیں گے۔

چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو   کا کہناتھا کہ سابق صدر کو کورٹ آرڈر کےباوجود جیل میں سہولیات فراہم نہیں کی جارہی، میڈیکل رپورٹ پر عمل درآمد نہیں کیاجارہا،آصف زرداری بیمار ہیں مگر حوصلہ بلند ہے،وہ ظلم برداشت کرسکتے ہیں معاشی سودے بازی نہیں،آصف علی زرداری کو بنیادی انسانی سہولیات نہیں دی جارہیں، صحت تیزی سے خراب ہورہی ہےان کو ہسپتال شفٹ کیاجائے۔

پیپلزپارٹی  ظالموں کےسامنے کبھی سر نہیں جھکائے گی اور انسانی حقوق کا مطالبہ کرتی رہے گی،شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا، پیپلزپارٹی کبھی احتساب سے نہیں بھاگی، پیپلزپارٹی معاشی حقوق کے تحفظ کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی، پیپلزپارٹی کے دورمیں بھی مخالفین نے احتجاج کیے، کراچی کے عوام کٹھ پتلی حکومتی کے خلاف پیپلزپارٹی کے ساتھ ہیں، نالائق اور نااہل حکو مت کو گھر جانا ہوگا، پیپلزپارٹی نے کبھی مخالفین کو احتجاج سے نہیں روکا، کھانا تک مہیا کیا،بدقسمتی سے یہ لوگ سیاسی نہیں ہیں۔

بلاول بھٹونے لاڑکانہ ضمنی انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کوسیاست کا بھی پتا نہیں، سندھ کاکیس راولپنڈی میں چلایاجارہاہے،جمہوری ملک چلاناکوئی کرکٹ میچ نہیں ہوتا،ان کونہیں پتاسیاست کیسے کرنی ہے؟اس حکومت کے پاس معیشت سے متعلق کوئی پلان نہیں، کمزورجمہوریت بھی آمریت سے بہترہے۔

بلاول بھٹو نے حکومت کوغیرسنجدہ قراردیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی آمریت کی مخالفت کی اوراب بھی کریںگے، آزادی مارچ کی سیاسی حمایت جاری رکھیں گے،عمران خان پارلیمانی نظام کوچلنے نہیں دےرہے،جمہوری راستہ بند ہونےسےاحتجاج کے سوااورکوئی راستہ نہیں،سب نے مل کرعوام کے مسائل حل کرنے ہیں۔

بلاول بھٹو کا مزید کہناتھا کہ غیر جمہوری قوتیں کے خلاف توہین عدالت لاگو نہیں،سیاسی قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنارہے رہے ہیں، اگر مولانا فضل الرحمان کو احتجاج کی اجازت نہیں دی جاتی تو پیپلز پارٹی لائحہ عمل طے کرے گی، بلاول بھٹو نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔