طالبہ نمرتا کی موت نے یونیورسٹی انتظامیہ کابھانڈہ پھوڑ دیا

 طالبہ نمرتا کی موت نے یونیورسٹی انتظامیہ کابھانڈہ پھوڑ دیا


کراچی( 24نیوز ) لاڑکانہ میں میڈیکل کی طالبہ نمرتا کی موت پر بے نظیر میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ کی نااہلی بھی سامنے آ گئی، طالبہ کی لاش کو ہاسٹل سے ہسپتال منتقل کرنے کے لیے شٹل وین استعمال کی گئی ،انتظامیہ نے ملبہ چھوٹے ملازمین پر ڈال دیا۔

تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ میں آصفہ ڈینٹل کالج کی طالبہ نمرتاکی پراسرار موت کے واقعہ پر24 نیوز نے بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ کی نااہلی کا بھانڈہ پھوڑ دیا، نمرتا کی ہاسٹل نمبر 3 کے کمرے سے برآمد ہونے والی لاش کو ہسپتال منتقل کرنے کیلئے شٹل وین استعمال کی گئی،انتہائی خراب حالت میں استعمال ہونے والی چانڈکا کالج کی شٹل وین کے دو فٹ والی سیٹ پر نمرتا کو سلایا گیا، ہاسٹل سے چانڈکا ہسپتال کے شعبہ حادثات تک پہنچانے کا راستہ دس منٹ کا ہے۔

شٹل وین طالبات کو کالج سے ہاسٹل اور ہاسٹل سے کالج تک استعمال ہوتی ہے، واقعے والے دن کلرک نے اطلاع دیکر بلایا اور ہاسٹل کی لڑکیوں نے نمرتا کو وین میں رکھا، چوکیدار اور کلرک بھی موجود تھے لیکن کوئی انتظامی افسر نہیں تھا، شہید بے نظیر بھٹو کے نام سے منسوب یونیورسٹی کے پاس اپنی ایمبولینس تک نہیں، یونیورسٹی انتظامیہ نے تحقیقات سے پہلے سارہ ملبہ چھوٹے ملازمین پر ڈال دیا۔

لاڑکانہ کے بی بی آصفہ بھٹو ڈینٹل کالج کے ہاسٹل میں طالبہ نمرتا کماری کی موت کیسے ہوئی ابھی تک کچھ پتہ نہ چلا، ڈینٹل کالج میں چھٹے روز بھی کلاسز کا بائیکاٹ جاری ہے طلبہ و طالبات سراپا احتجاج ہیں.