سائلین نے چیف جسٹس کی گاڑی روک لی


لاہور( 24نیوز ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کے ”باﺅنسرز“جاری،چھٹی کے روز بھی مقدمات کی سماعت کیلئے پریم کورٹ رجسٹری لاہور پہنچ گئے انہوں نے مختلف مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے احکامات بھی جاری کیے۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے چھٹی کے روز پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بے ضابطگیوں کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت کی،عدالتی حکم پر صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق اور پی آئی سی کے سربراہ ندیم حیات ملک سمیت دیگر پیش ہوئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ دہری شہریت رکھنے والے کو کیسے اوورسیز کمشنر اور پی آئی سی میں لگایا گیا، چیف جسٹس پاکستان نے اوورسیز کمشنر سے استفسار کیا کہ 'تمہاری کتنی تخواہ ہے' جس پر افضال بھٹی نے بتایا کہ میری تنخواہ ساڑھے 5 لاکھ روپے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سابق آئی جی مشتاق سکھیرا چیف جسٹس کے حکم کے آگے دیوار بن گئے
چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے کا چیف سیکرٹری ایک لاکھ 80 ہزار لے رہا ہے، تمہیں سرخاب کے پر لگے ہیں، چیف جسٹس نے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'خواجہ صاحب آپ کے ہوتے ہوئے یہ سب کیسے ہوگیا، دل کرتا ہے وزیراعلیٰ کو بلا کر ساری کارروائی دکھاوں۔
معزز جج نے مزید کہا کہ خواجہ سلمان جو کچھ محکمہ صحت میں ہو رہا ہے، نوٹ کرتے جائیں، یہی آپ کے خلاف چارج شیٹ بنے گی،عدالت نے اوور سیز پاکستانیز کمشنر پنجاب، ممبر بورڈ پی آئی سی افضال بھٹی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد کو معاملے کی انکوائری کے لیے طلب کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں:سراج الحق کے عمران خان پر تابڑ توڑ حملے،وجہ سامنے آگئی
سپریم کورٹ نے کہا کہ معاملے کی تہہ تک جائیں گے اسی لئے نیب کو بھجوایا جارہا ہے جب کہ 28 اپریل کو تمام متعلقہ حکام کو دوبارہ طلب کیا گیا ہے، چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ باہر سے سفارشوں پر بھرتیاں کی جاتی ہیں جسے نظر انداز نہیں کرسکتے جب کہ عدالت نے اوور سیز پاکستانیز کمشنر پنجاب کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ نے میرٹ کے برعکس سرکاری یونیورسٹیز کے متعدد وائس چانسلرز کو استعفے دینے کی ہدایت کردی جب کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ نظام تعلیم کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا، یہ ہے پنجاب حکومت کی کارکردگی۔

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں وائس چانسلر لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی تعیناتی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

دریں اثناء چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ سینئرز کو کیسے نظر انداز کردیا گیا، عدالت کے علم میں ہے کہ احسن اقبال کا تعیناتی میں کیا کردار ہے۔

اس موقع پر وزیر ہائر ایجوکیشن علی رضا گیلانی نے کہا کہ عظمیٰ قریشی کی تعیناتی میرے دور میں نہیں ہوئی اور تعیناتی سے متعلق انکوائری میرے پاس آئی تھی۔

لاہور کالج یونیورسٹی کی وائس چانسلر عظمیٰ قریشی نے اس موقع پر کہا کہ احسن اقبال میرے والد کے شاگرد ہیں، حلفاً کہتی ہوں احسن اقبال کا تعیناتی میں کوئی کردار نہیں۔

چیف جسٹس نے میرٹ کے برعکس سرکاری یونیورسٹیز کے متعدد وائس چانسلرز کو استعفے دینے کی ہدایت کرتے ہوئے نئی سرچ کمیٹیاں قائم کر کے وائس چانسلرز کی جلد تعیناتیاں کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ 'بتایا جائے سینیر لوگوں کو کیوں نظر اندازکیا گیا، ہائیر ایجوکیشن کے وزیر کہاں ہیں، پنجاب یونیورسٹی اہم ترین ہے، ڈھائی سال سے مستقل وی سی کیوں تعینات نہیں کیا گیا'۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن سے استفسار کیا کہ بتایا جائے کوتاہی کا ذمہ دار کون ہے، سیکرٹری، وزیر یا وزیراعلیٰ میں سے کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اڑھائی سال سے مستقل تعیناتی نہ ہونے کا مطلب آپ نااہل ہیں جس پر سیکرٹری ہائی ایجوکیشن نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں مستقل تعیناتی کے لیے اگست تک کا وقت درکار ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت تو موجودہ حکومت نہیں ہوگی،کیا اتنا طویل وقت اسی لئے مانگا جارہا ہے۔

سیکرٹری ہائر ایجوکیشن نے کہا کہ درخواستوں کو پراسس کرنے کے لیے وقت چاہیے جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اتنا متعصب ڈی ایم جی افسر میں نے نہیں دیکھا جو سیاسی حکومت کا دفاع کررہا ہے، اگر 6 ہفتوں میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی نہ ہوئی تو ذاتی طور تم ذمہ دار ہوگے۔

سپریم کورٹ نے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر عظمیٰ قریشی کو معطل کردیا اور 3 سینئیر ترین پروفیسرز میں سے ایک کو قائم مقام وی سی تعینات کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

چیف جسٹس کے لاہور رجسٹری سے نکلتے ہی سائلین نے کی گاڑی روک لی ، چیف جسٹس نے نیچے اتر کر ان کے مسائل سنے اور ان کو ساتھ ہی عدالت واپس لے گئے۔

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں