نیب کو خواجہ برادران کا جسمانی ریمانڈ مل گیا



لاہور(24نیوز) احتساب عدالت کی جانب سے خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کے جسمانی ریمانڈ میں پانچ جنوری تک توسیع کر دی گئی ہے۔  نیب حکام کی جانب سے مزید انوسٹی گیشن کے لیے عدالت سے جسمانی ریمانڈ کی مانگا گیا تھا.

وفاقی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے خواجہ برادران کو احتساب عدالت کے جج نجم الحسن کی عدالت میں پیش کیا گیا، نیب پراسیکیوٹر وارث جنجوعہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 10 دن کے جسمانی ریمانڈ میں سعدین ایسوسی ایٹس اور ایگزیکٹو بلڈرز سے جو رقم خواجہ برادران کو ملی اس سے تفتیش کی اورخواجہ برادران سے یہ پوچھا ہے کہ آپ نے کن لوگو‍ں کو سروسز دی ہیں انکے ایڈریس دیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ خواجہ برادارن نے ہمیں تفصیل نہیں دی ہے،ہم نے ان لوگوں کے بیان ریکارڈ کرنے ہیں لیکن یہ کچھ نہیں بتا رہے جبکہ کوئی فرحان علی ہے جو ایگزیکٹو بلڈرز اور پیراگون کے اکاؤنٹ کو چلا رہا ہے اور6.2 ملین خواجہ سعد رفیق کے اکاؤنٹ میں پیراگون سے ڈائریکٹ آئے ہیں جس پر خواجہ سعد رفیق نے بتایا یہ کمیشن کی رقم ہے لیکن زمین نہیں بتائی گئی کہ کس زمین کے بدلے کمیشن ملا ہے۔

نیب نے مزید آگاہ کیا کہ شاہد بٹ ایک بلاک کا مالک ہے اور شاہد بٹ نے کہا کہ خواجہ برادران نے میری کمرشل زمین لوگوں کو بیچ دی ہے جبکہ خواجہ سعد رفیق نے کہا ہم نے کسی کا کوئی پیسہ نہیں دینا ہے۔نیب نے عدالت کو مزید یہ بھی کہا کہ قیصر امین بٹ نے بیان دیا کہ خواجہ برادران اصل مالک ہیں۔ پیراگون سٹی کے2 ارب روپے کے کمرشل پلاٹ غیر قانونی طور پر بیچے گئے جبکہ ہمارے پاس 100 کے قریب متاثرہ لوگ آئے ہیں۔

متعلقہ پٹواریوں نے بتایا ہے کہ تقریباً 40 کنال جگہ حکومت کی ملکیت تھی وہ بھی بیچی گئی ہے.جن لوگوں نے یہ جگہ خریدی ہم نے انکو بھی بلانا ہے اور بیان ریکارڈ کرنا ہے جبکہ حاجی رفیق نے بیان ریکارڈ کرایا کہ میری 200 کنال جگہ پیراگون میں ہے لیکن مجھے ایک دھیلہ نہیں دیا گیا مزید تفتیش جاری ہے جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے۔

خواجہ برادران کے وکیل امجد پرویز نے ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایگزیکٹیو بلڈرز سے تعلقات کی بات پرانی ہے،ہم نے لوگوں کے نمبر اور گھروں کے نمبر بھی دے دیے ہیں۔ ایگزیکٹیو ہومز سے جو پیسہ آیا وہ رٹرنز میں ظاہر کیا گیا ہےجن پیسوں کی بات کی وہ سپریم کورٹ میں حلف نامہ میں بتایا تھا۔ آج نیب اسی کو انکشاف بنا رہا ہے۔

وکیل نے مزید کہا کہ نیب نے جو باتیں عدالت کو بتائی ہیں آج کی درخواست میں ان کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ کے ایس آر اور سعدین ایسوسی ایٹس جو ایگزیکٹو بلڈرز سے کمیشن لے رہے وہ ٹکس ریٹرن میں ڈیکلیئر ہے اور خواجہ برادران کے بتائے ہوئے فیکٹس کو مسخ کر کے عدالت کے سامنے پیش کیا جا رہا ہےجس پر عدالت نے استفسار کیا کہ نیب ٹرانزیکشن کی بات کر رہا ہے تو وکیل نے آگاہ کیا کہ ٹرانزکشن ہوئی ہے لیکن وہ قانون کے مطابق ہوئی ہے.

خواجہ برادران کے وکیل نے مزید کہا کہ بنیادی حقوق میں سے خواجہ برادران کا بھی حق ہے کہ بزنس کریں.جب نیب نے 9 ماہ پہلے خواجہ سعد رفیق کو کال آپ نوٹس بھیجا تو جواب میں بتایا کہ جو کمیشن آیا ہے وہ کیسے آیا جبکہ خواجہ سعد رفیق نے سپریم کورٹ میں بھی حلف نامہ جمع کرایا ہے کہ کس کس طرح مجھے قانونی کمشین ملا. وکیل نے استدعا کی کہ خواجہ برداران کے ریمانڈ کی درخواست نہیں بنتی ہے۔

عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد نیب کی جانب سے خواجہ برادارن کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کرتے ہوئے مزید پندرہ روز کا جسمانی ریمانڈ دے دیا اور خواجہ برادران کو پانچ جنوری کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔