"اپوزیشن کی ہر بات مان لیں گے لیکن احتساب سے پیچھے نہیں ہٹیں گے"


لاہور(24 نیوز)وزیر اعظم عمران خان نے  پنجاب حکومت کی 100روزہ کارکردگی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف کوچیئرمین پی اے سی بنانے کے فیصلے پر تنقیدکی جبکہ ایک بارپھر عثمان بُزدارکے انتخاب کادفاع کیا، کسی نے مجھے آج تک نہیں کہاکہ عثمان بُزدارکمیشن لے رہاہے،عثمان بُزدار کاجینامرناپاکستان میں ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اس وقت ڈرامہ کیاجارہاہے تاہم ہم اپوزیشن کی ہر بات مان لیں گے لیکن احتساب سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، کرپٹ لوگوں کونہ پکڑاتوملک کامستقبل خطرے میں ہے، اپوزیشن کہتی ہے جمہوریت بچانے کیلیے میثاق کرلیں، یہ نہیں ہوسکتاکہ جمہویت کے نام پرکرپشن پر سمجھوتہ کرلیں۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم سب تحریک انصاف کے جلسے یاد کررہےہیں، سابق حکومت نے مزدوروں کافنڈبھی ہضم کرلیاتھا، ماضی میں جنوبی پنجاب کاپیسہ دیگرشہروں میں خرچ کردیاگیا۔ جن حالات میں یہ صوبہ ملاوہیں سے لے کرآگے جائیں گے،  پنجاب کے بجٹ کی منصفانہ تقسیم کافیصلہ کیاہے، سابق حکومت نے پنجاب کاآدھابجٹ لاہورپرخرچ کردیا. 

مشرقی پاکستان کے لوگوں کی بات نہیں سنی گئی،انہیں انصاف نہیں ملا، جس معاشرے میں انصاف نہ ہووہاں انتشار پھیلتاہے، نا انصافی سے بلوچستان کے حالات خراب ہوئے۔ آگے بڑھنے کیلئے غلطیوں سے سیکھناہوگا۔سیاستدانوں کی غلطیوں کی وجہ سے ملک کومشکلات کاسامناہے۔

اورنج ٹرین اور میٹروزکے قرضے ملک کیلیے نقصان دہ ثابت ہوئے، جب کرپشن ہوتی ہے تومہنگائی ہوتی ہے، اچھاوقت آنے والاہے، بڑے بڑے سرمایہ کارپاکستان آرہے ہیں، ہم مہنگی گیس اوربجلی دیتےہیں توانڈسٹری دوسرے ممالک کامقابلہ نہیں کرسکتی۔پنجاب پولیس کوغیرسیاسی بنائیں گے، ایک سال میں تمام سول مقدمات کافیصلہ کراناہے، ہمیں چھوٹے کسان کواوپراٹھاناہے،کوشش ہے چھوٹی چھوٹی چیزوں سے کسانوں کی مددکریں۔