مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں،خزانے تلاش کرنے والا گروہ قبریں کھودنے لگا

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں،خزانے تلاش کرنے والا گروہ قبریں کھودنے لگا


اٹک(24نیوز) مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں، اٹک کے قدیم قبرستان کے مدفون اب یہی شکوہ کر رہے ہوں گے، خزانے کی تلاش میں قبریں کھودنا معمول بنتا جارہاہے، رہی سہی کثر نشے بازوں اور جادو ٹونہ کرنے والوں نے پوری کر دی ہے،مقامی لوگ صورتحال سے خاصے پریشان ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اٹک میں صدیوں پرانے کئی قبرستان موجود ہیں لیکن داستان سبھی کی ایک ہے۔یہاں قبرستان یا تو جادو ٹونے کیلئے استعمال ہوتے ہیں یا پھر نشے کے عادی لوگ اپنی زندگی دھویں میں اڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔یہی لوگ پرانی قبروں پر لگے سنگ مرمر کے پتھر اکھاڑ لے جاتے ہیں۔جو موچیوں کی دکانوں پر نظر آتے ہیں۔ ٹوئنٹی فور نیوز سے گفتگو میں اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ قبرستانوں کی مناسب دیکھ بھال کی ضرورت ہے اب اس کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ چند دن پہلے حضرو کے یاسین خورد قبرستان میں خزانہ تلاش میں طور بابا کی قبر کو کھود ڈالی گئی۔لوگوں کی فائرنگ سے محمد گل جان نامی شخص ہلاک بھی ہوا۔ فضل نامی شخص کو پکڑ کر پولیس کے حوالے بھی کیا۔

پولیس حکام کے مطابق قبرستانوں کے قریب ناکے لگا کر نگرانی کی جائے گی۔ حکومت کو چاہیے صدیوں پرانے ان قبروں کی حفاظت کیلئے کوئی بندوبست کرے تاکہ قبروں کو بے حرمتی سے بچایا جا سکے۔