ریفرنس کیس: 2005میں کیلبری فونٹ دستیاب تھا، رابرٹ ریڈلے کا بیان قلمبند,سماعت آج ہوگی


اسلام آباد (24 نیوز) شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سات گھنٹوں پر مشتمل طویل سماعت آج دن دو بجے ہوگی۔ استغاثہ کے گواہ رابرٹ ریڈلے کا بیان قلمبند۔ 

آئی ٹی ایکسپرٹ رابرٹ ریڈلے کا کہنا تھا کہ کیلبری فونٹ ونڈو وسٹا کے 2005 بیٹا ورژن میں دستیاب تھا۔ فونٹ عام لوگوں کے استعمال میں نہیں تھا۔ فونٹ کا عام استعمال 2007 کے بعد شروع ہوا۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس پر سماعت کی۔ کیپٹن صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔ استغاثہ کے گواہ رابرٹ ریڈلی کا بیان قلمبند کر لیا گیا جبکہ جرح جاری ہے۔ گواہ نے بتایا کہ فرانزک ہینڈ رائٹنگ ایسکپرٹ ہوں۔ کوئسٹ سالیسٹر نے 30 جون 2017 کو دو ڈکلیریشن کا موازنہ کرنے کا کہا۔ نیلسن اور نیسکول کے دونوں ڈکلیریشن پر تاریخوں کی تبدیلی کا موازنہ بھی کیا۔

متعلقہ خبر : ایون فیلڈ ریفرنس، نواز شریف کے وکیل کے سوال پر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اُٹھا

رابرٹ ریڈلی نے کہا کہ دونوں ڈکلیریشن میں دوسرا اور تیسرا صفحہ الگ سے بنایا گیا۔ یہ ناممکن تھا کہ بتایا جائے کہ کون سا صفحہ اصل ہے۔ دوسرے اور تیسرے صفحہ پر موجود تاریخوں میں تبدیلی کی گئی۔ 2004 کو تبدیل کرکے 2006 بنایا گیا۔ چار کو چھ بنایا گیا۔رابرٹ ریڈلے نے کہا کہ دونوں صفحات میں سے دوسرے صفحہ کے دستخط بھی مختلف تھے۔ دستاویزات پر 2 کی بجائے 4 سٹیپلر پن کے سوراخ تھے۔

ظاہری طور پر ایسا لگتا ہے کاغذات تبدیل کرنے کے لیے کارنر پیس کھولا گیا۔ میں نے دستاویزات کے ٹائپنگ فونٹ کا بھی جائزہ لیا۔  ڈکلیریشن کی تیاری میں کیلبری فونٹ استعمال کیا گیا۔ کیلبری فونٹ پرائمری طور پر وسٹا ونڈو میں استعمال ہوا جو 31 جنوری 2007 تک کمرشل بنیادوں پر موجود نہیں تھا۔ ٹائپنگ کے دوران کیلبری فونٹ ڈیفالٹ ٹائپنگ فونٹ استعمال کیا گیا۔ کمپیوٹر 2007 میں ونڈو سیون میں کیلبری فونٹ خود کار طور پر استعمال کرتا تھا جب تک تبدیل نہ کیا جائے۔ یہ ڈکلیریشن 31 جنوری 2007 سے پہلے کمرشل طور پر تیار نہیں ہو سکتے۔

یہ بھی پڑھئے: چیئرمین نیب کا پاکستان اسپورٹس بورڈ میں مبینہ بدعنوانی کا نوٹس
 
رابرٹ ریڈلے پر جرح کرتے ہوئے خواجہ حارث نے اعتراض اٹھایا کہ گواہ کے پاس بیان کی کاپی کیوں ہے۔ اس کا مطلب ہے گواہ کو ڈکٹیٹ کیا جا رہا ہے۔ گواہ نے کہا کہ نیب تفتیشی افسر کو نہیں بتایا کہ آف شور کمپنیوں کے ڈکلیریشن راجہ اختر کی لا فرم سے ملے۔ سوال ہوا کہ پراسیکیوٹرز سے کب ملاقات ہوئی۔ راجہ اختر کے کہنے پر سردار مظفر اور امجد پرویز سے منگل کو ملاقات ہوئی۔

گواہ نے کہا کہ ملاقات میں شکیل نامی شخص بھی موجود تھا۔ مجھے لگا شاید یہ بھی نیب سے ہے۔ نیب پراسیکیوٹر کی مداخلت پر خواجہ حارث برہم ہو گئے۔ بولے یہ کس قسم کا آدمی ہے، کبھی تھینک یو تھینک یو کہہ رہا ہے۔ میں عدالت چھوڑ دوں گا، اس کو بٹھا دیں۔ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میری ذات پر سوال نہ کریں۔ خواجہ حارث بولے کیا کال کے دوران قوائد و ضوابط طے ہوئے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ قواعد و ضوابط طے ہوئے۔ رابرٹ ریڈلے نے کہا کہ پندرہ دسمبر کو نیب ٹیم نے میرا بیان قلمبند کیا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ کیا آپ نے تفتیشی افسر کو بتایا آپ کی خدمات تیس جون کو حاصل کی گئیں۔ گواہ بولا میری خدمات انتیس جون یا اس کے آس پاس حاصل کی گئیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ کیا آپ کے پاس تفتیشی افسر کو دیئے گئے بیان کی کاپی موجود ہے۔ گواہ بولا کاپی میرے پاس موجود ہے۔ وہیں سے دیکھ کر تاریخ بتائی ہے۔

ضرور پڑھئے:  احد چیمہ گروپ کی وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات، ہڑتال کی دھمکی
 
سوال ہوا کیا آپ نے اپنی رائے سے پہلے تمام دستاویزات کو پڑھا تھا؟ جواب ملا نہیں میں نے دستاویزات کو تفصیل کے ساتھ نہیں پڑھا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ میری جاب ان کا فرانزک معائنہ کرنا تھا۔ سوال ہوا کیا آپ نے ان سے اصل دستاویزات مانگی تھیں۔ گواہ نے کہا کہ نہیں میں نے ان سے اصل دستاویزات سے متعلق سوال نہیں کیا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ کیا آپ نے رپورٹ میں ذکر کیا تھا کہ آپ کو اصل دستاویزات نہیں مہیا کی تھیں۔ گواہ بولا مجھے اصل دستاویزات کی ضرورت نہیں تھی نہ میں نے اس کا ذکر ہی اپنی فرانزک رپورٹ میں کیا۔سوال کیا گیا ہے کہ تمام دستاویزات کا مواد ان کی اصلیت پر مبنی تھا۔ کیا آپ نے مواد کا تفصیلی جائزہ لیا؟ گواہ نے کہا کہ نہیں مجھے دستاویزات کے مواد میں دلچسپی نہیں تھی۔ میرا کام ان کا فرانزک آڈٹ کرنا تھا۔
وکیل نے کہا کہ کیا رپورٹ کے ساتھ منسلک علیحدہ سے شیڈول کا ان سے مطالبہ کیا؟ گواہ نے کہا کہ میرا ٹاسک یہ تھا کہ جو دستاویزات مجھے جیسی موصول ہوئی انہیں اسی طرح واپس کرنا تھا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ اس کا مطلب ہے آپ نے ان سے منسلک شیڈول کا نہیں پوچھا نہ رپورٹ میں ذکر کیا؟ گواہ بولا نہیں میں نے ان سے شیڈول کا مطالبہ نہیں کیا نہ میری جاب تھی؟ خواجہ حارث نے پوچھا لیکن جو دستاویزات آپ کے پاس ہیں اس وقت اس میں شیڈول ساتھ منسلک ہے۔

پڑھنا نہ بھولئے:  احتساب عدالت میں پیشیوں کا سلسلہ جاری،نواز شریف کے چہرےپر گھبراہٹ کے آثار نمایاں
 
گواہ نے کہا کہ ان دستاویزات کے ساتھ شیڈول منسلک ہے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ اگر یہ شیڈول ان کے ساتھ منسلک ہے تو آپ کا شیڈول ساتھ نہ ہونے کا بیان صحیح نہیں ( غلط) ہے؟ جس پر گواہ نے کہا کہ اگر یہ شیڈول منسلک ہے تو میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرا بیان غلط ہے۔ خواجہ حارث نے پوچھا کہ کیا یہ درست ہے کہ ونڈو وسٹا کے تین ایڈیشن جاری ہوئے۔ گواہ بولا یہ درست ہے تین ایڈیشن جاری ہوئے تھے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ کیا یہ بات بھی درست ہے کہ ونڈو وسٹا کا پہلا باقاعدہ ایڈیشن 31 جنوری 2007 کو جاری ہوا۔

گواہ نے کہا کہ ونڈو وسٹا نے پہلا ایڈیشن 31 جنوری 2007 کو ہی جاری کیا تھا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ اگر میں یہ کہوں کہ ونڈو وسٹا بیٹا کا پری لانچ ایڈیشن 2005 میں جاری ہو گیا تھا۔ جس پر گواہ نے کہا کہ ونڈو وسٹا بیٹا کا پہلا ایڈیشن 2005 میں آئی ٹی ایکسپرٹ کے لیے جاری ہوا تھا۔ خواجہ حارث نے پوچھا کہ کیا ونڈو وسٹا بیٹا کے پری لانچ ایڈیشن کے ساتھ کیلبری فونٹ کی سہولت موجود تھی؟ جس پر گواہ نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ونڈو وسٹا بیٹا کے ساتھ کیلبری فونٹ کی سہولت موجود تھی لیکن یہ صرف آئی ٹی ایکسپرٹ اور آئی ٹی ڈویلپر کو ٹیسٹ کرنے کے لیے فراہم کیا گیا تھا۔

سوال ہوا کہ کیا یہ بات درست ہے کہ ونڈو وسٹا بیٹا کا کیلیبری فونٹ ہزاروں لوگ استعمال کر رہے تھے۔ گواہ نے کہا کہ یہ بات درست نہیں کہ ہزاروں لوگ استعمال کر رہے تھے بلکہ محدود پیمانہ پر آئی کے ماہرین کو لائسنس کے ساتھ ٹیسٹ کے لیے فراہم کیا گیا تھا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ کیا یہ بات درست ہے آپ فونٹ کے حوالے سے نوٹس دیکھ کر جواب دے رہے ہیں۔ گواہ نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ میں نوٹس دیکھ کر آپ کے سوالوں کا جواب دے رہا ہوں۔

مزید پڑھئے: عورت کا بڑا مقام، میری بیوی میرے لئے جنت کی حور ہے،کیپٹن(ر) صفدر
 
خواجہ حارث نے کہا کہ آپ نے نوٹس کب تیار کیے، کیا یہ نوٹس آپ نے جرح کے لیے تیار کیے ہیں؟ گواہ نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ نوٹس جرح کے لیے تیار کیے اور کل اس حوالے سے میٹنگ ہوئی اور اس حوالے سے بحث بھی ہوئی۔ خواجہ حارث نے پوچھا میٹنگ کس حوالے سے ہوئی۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ سوال متعلقہ نہیں ہے میں یہاں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق آیا ہوں کل کی میٹنگ بھی پھر عدالت کے حکم پر ہی ہوئی ہو گی۔ اس پر عدالت میں قہقہے لگے۔ جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت کل دن دو بجے تک ملتوی کردی۔ گواہ پر جرح جاری ہے جو کل مکمل کی جائے گی دوران سماعت کیپٹن صفدر عدالت میں موجود رہے۔