مہنگائی نے عوام کو دن میں تارے دکھا دیے

مہنگائی نے عوام کو دن میں تارے دکھا دیے


اسلام آباد (24 نیوز) گیس ملے نا ملے، مہنگائی کی گاڑی کی رفتار مزید تیز ہو گئی، مڈل کلاس کے لیے مہنگائی کی شرح پندرہ فیصد کے قریب پہنچ گئی،  گزشتہ سال فروری میں مہنگائی کی اوسط شرح ایک فیصد سے بھی کم تھی۔

پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق فروری کے تیسرے ہفتے کے دوران مارکیٹ میں ٹماٹر، آلو، چاول، گھی، لہسن، چکن اور انڈوں سمیت 16 اشیا کی قیمت میں نو فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تمام دالیں، بریڈ اور صابن بھی مزید مہنگے ہو گئے، جس کے باعث ہفت روزہ بنیاد پر مہنگائی میں اضافے کی اوسط شرح 10.44 فیصد ہو گئی جو ساڑھے چھ سال کی بلند ترین سطح ہے، گزشتہ سال فروری کے تیسرے ہفتے میں مہنگائی کی شرح صرف 0.98 فیصد تھی۔

رپورٹ کے مطابق 35 ہزار سے زیادہ آمدنی والوں کے لیے ہفت روزہ بنیاد پر مہنگائی کی اوسط شرح 14.9 فیصد اور 18 سے 35 ہزار روپے ماہانہ کمانے والوں کے لیے 11.3 فیصد رہی، ہفتے کے دوران مارکیٹ میں کھانے پینے اور روز مرہ استعمال کی 53 بنیادی اشیا میں سے 45 اشیا کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے مقابلے نمایاں اٖضافہ دیکھا گیا،  ٹماٹر نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا،   گزشتہ سال سے 242 فیصد مہنگا ہو گیا، چینی دنیا بھر میں سستی ہو رہی ہے پاکستان میں پہلے سے بھی 17 فیصد مہنگی بک رہی ہے۔