شٹ ڈاؤنپر مذاکرات پھر ناکام، لاکھوں ملازمین کام پر نہیں آسکیں گے


واشنگٹن (24نیوز) امریکہ میں حکومت اور اپوزیشن میں اختلافات کے باعث وفاقی حکومت کا بجٹ منظور نہ ہونے کی وجہ سے وفاقی محکموں کے لاکھوں ملازمین پیر کو کام پر نہیں آ سکیں گے۔

تفصیلات کے مطابق شٹ ڈاؤن جمعے کی رات سے شروع ہوا تھا جب وفاقی اخراجات کے بل پر ریپلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان اختلافات کے باعث توسیع نہیں ہو سکی تھی۔اس حوالے سے اتوار کو ہونے والی کوشش بھی ناکام رہیں اور بات چیت میں مفاہمت کی کوئی گنجائش دکھائی نہیں دیتی کیونکہ دونوں جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ڈیمو کریٹس چاہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ امیگریشن کے مسئلے پر بھی بجٹ کے حصے کے طور بات کریں لیکن رپبلیکنز کا کہنا ہے کہ وفاقی خدمات کی معطلی کی صورت میں کسی بھی معاہدے پر بات نہیں کی جائے گی۔

دوسری جانب رپبلیکنز سرحدوں کی حفاظت جس میں میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے اور امریگریشن اصلاحات سمیت فوجی اخراجات کی مد میں فنڈنگ بڑھانے کے خواہشمند ہیں۔یاد رہے کہ امریکی وفاقی حکومت کے اخراجات کا بل کانگریس کے ایوانِ زیریں سے منظور کیا جا چکا ہے۔ سینیٹ سے بل نہ پاس ہونے کا مطلب ہے کہ حکومتی سرگرمیاں جزوی طور پر فوراً معطل ہو جائیں گی۔

مذکورہ بل میں حکومتی اخراجات کی 16 فروری تک توسیع تھی تاہم اسے درکار 60 ووٹ نہ مل سکے۔سینیٹ کے اصول کے مطابق 100 ارکان کے ایوان میں اس بل کی منظوری کے لیہ 60 ووٹ درکار ہیں۔ رپبلیکنز کے پاس 51 نشستیں ہیں اور انہیں اس بل کی منظوری کے لیے بعض ڈیموکریٹس کی حمایت حاصل کرنا ہو گی۔