سانحہ ساہیوال: سی ٹی ڈی اہلکار خلیل اور اس کی فیملی کے قاتل قرار

سانحہ ساہیوال: سی ٹی ڈی اہلکار خلیل اور اس کی فیملی کے قاتل قرار


لاہور(24نیوز) پنجاب حکومت نے ایکشن لے لیا، ساہیوال واقعہ میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کوخلیل اوران کےخاندان کا قاتل قراردےدیا۔

وزیر قانون راجا بشارت نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں عوام کو انصاف نہیں ملا،  ہم نے اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی جزا و سزا سے بالاتر نہیں ہے، سانحہ ساہیوال حکومت پنجاب کیلئے ٹیسٹ کیس ہے حکومت اس واقعہ کو مثال بنائے گی۔

انھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد قتل کا ذمہ دار سی ٹی ڈی افسران کو ٹھہرایا گیا ہے،  سی ٹی ڈی کے5اہلکاروں پرانسداد دہشت گردی کامقدمہ چلایاجائے گا۔  ذمہ داروں کیخلاف انسداد دہشت گردی عدالت میں چالان کررہے ہیں۔ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی ، ایس ایس پی سی ٹی ڈی اور ڈی ایس پی سی ٹی ڈی ساہیوال کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پنجاب، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی ، ایس ایس پی سی ٹی ڈی اور ڈی ایس پی سی ٹی ڈی ساہیوال کو فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے اور انہیں وفاق کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ آپریشن 100 فیصد درست ہوا لیکن بدقسمتی سے آپریشن میں ایک فیملی ماری گئی جس کی وجہ سے اہلکاروں کیخلاف کارروائی کررہے ہیں۔ سی ٹی ڈی کی کارروائی مکمل طور پر انٹیلی جنس پر مبنی اور درست تھا، ذیشان اصل میں گناہ گار ہے، دوسرے افراد بے گناہ تھے۔ذیشان کے متعلق حقائق جاننے کے لئے جے آئی ٹی نے وقت مانگا ہے۔ذیشان کے حوالے سے حقائق تک صبر کرلیں۔

 راجہ بشارت نے کہا کہ کل میڈیا کو ان کیمرا بریفنگ دی جائے گی ،کس کی اطلاعات پر سی ٹی ڈی نے کارروائی کی، کل بتائیں گے ذیشان کے زیراستعمال گاڑی کس کے نام تھی۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔