دریائے سندھ میں بچے کیسے ڈوبے؟ حقائق سامنے آگئے

دریائے سندھ میں بچے کیسے ڈوبے؟ حقائق سامنے آگئے


کراچی( 24نیوز )سکھرمیں تین بھائیوں سمیت چھ بچوں کے دریائے سندھ میں ڈوبنے پرحادثے میں بچ جانے والے بچے کا ویڈیو بیان 24نیوز نے حاصل کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق تین سگے بھائیوں سمیت 6 بچوں کا دریائے سندھ میں ڈوبنے کا معاملہ ، واقعے میں بچنے والے  بچے کا وڈیو بیان 24 نیوز کو موصول ہوگیا ہے، بچ جانے والے بچے زین کا کہنا تھا کہ مجھے باہر چھوڑ کر سات بچے دریا میں نہانے کے لئے اترے تھے ، ایک بچے کی ٹانگ پھنسی تو دیگر بچانے کے لئے بڑھے،تیز لہریں چھ دوستوں کو بہا کر لے گئیں، ہم دو دوست بچے ہیں۔

ہم 8 بچے کرکٹ کھیلنے کے بعد دریا میں نہانے گئے،میں نے جھاڑیوں اور ڈنڈوں کی مدد سے دوستوں کو بچانے کی کوشش کی تھی،6 بچے موقع پر ہی ڈوب گئے،ہم دو بچ گئے,سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے بچوں کی تلاش کےلئے آپریشن کیا گیا,ڈی ایس پی سٹی عبدالرشید جونیجو کے مطابق ایک بچے کی نعش لاڑکانہ کے علاقے کیٹی ممتاز دریا سے برآمد ہوئی جسکی شناخت اس کے والد نے ابتہاج کے نام سے کی۔

واضح رہے  دریائے سندھ کے قریب کوئنز روڈ پر واقع حماد پلازہ کے رہائشی تین بھائیوں سمیت 11 سے 16 سال کی عمر کے چھ بچے گذشتہ دو روز سے پراسرار طور پر لاپتہ تھے، تلاش کرنے پر اطلاع ملی کہ وہ دریا پر نہانے گئے تھے،اور یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا، ڈونبے والےبچوں میں تین بھائیوں 13 سالہ احتشام، 12 سالہ احسان ہے۔

علاوزہ ازیں 11 سالہ حماد سمیت 11 سالہ عاصم اور 16 سالہ قاسم بھی شامل تھا، عاصم اور قاسم  آپس میں بھائی تھےجبکہ ان کا ایک دوست محمد انس بھی ان کے ہمراہ تھا۔