سپریم کورٹ کا ٹیکسوں کے طریقہ کار پر عدم اطمینان کا اظہار

سپریم کورٹ کا ٹیکسوں کے طریقہ کار پر عدم اطمینان کا اظہار


کراچی( 24نیوز ) چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ عدالت پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز اور قیمتوں کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں کیونکہ جس کا دل چاہتا ہے ٹیکس عائد کر دیتا ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پیٹرولیم منصوعات پر ٹیکسز سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر سیکرٹری خزانہ نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھائیں، اس فیصلے کا بوجھ عبوری حکومت پر آیا لہذا اب خسارہ کم کرنے کے لیے مزید قیمت بڑھائی جا سکتی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اس کا مطلب ہے شہریوں پر مزید عذاب ڈالیں گے، جس کا دل چاہتا ہے ٹیکس عائد کر دیتا ہے، عدالت ٹیکسز اور قیمتوں کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  چارٹرڈ طیارے پر عمرہ کرنیوالے علیم خا ن ایک ارب 21کروڑ کے مقروض

ضرور پڑھیں:انکشاف، 24 اگست2019

سیکرٹری خزانہ نے عدالت کو بتایا کہ پیٹرولیم قیمتیں اب بھی خطے میں سب سے کم ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ یہ بات بہت مرتبہ سن چکا، کہا جاتا ہے بھارت کے مقابلے میں قیمتیں کم ہیں تو بھارت کے ڈالرز کی قیمت بھی تو دیکھیں، بھارت اچھا کر رہا ہے یا برا، آپ کیا کر رہے ہیں، لوگوں پر ترس کھانا سیکھیں۔ عدالت نے تمام متعلقہ اداروں سے جامع جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 5 جولائی تک ملتوی کردی۔

ویڈیو ملاحظہ کیجئے: