شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین میں سرد جنگ چھڑ گئی



 24 نیوز: پاکستان تحریک انصاف میں انصاف کے تقاضے پورے نہ ہونے پر بڑے رہنماؤں کے بھی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین نے ایک دوسرے پر تنقید کے نشتر برسا دیئے۔

ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مقابلہ اس شخص سے کیا جاتا ہے جو کھیل میں شامل ہو، جہانگیر ترین سے کیسا مقابلہ۔ بلاشبہ ان سے کوئی مقابلہ نہیں اور مقابلہ تو سیاست میں ہوتا ہے جبکہ جہانگیر ترین تو الیکشن ہی نہیں لڑ سکتے۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ میں کوئی پاگل ہوں جو جہانگیر ترین سے مقابلہ کروں۔ بنی گالہ میں احتجاج کرنے والوں کو اس بات کا حق ضرور ہے لیکن سکندر بوسن کو سپورٹ کرنے والوں کو بھی سامنے لایا جانا چاہیے۔ عائشہ جٹ کو ضمنی الیکشن کس نے لڑوایا اور صوبائی ٹکٹ کس نے دلایا، یہ معلوم ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: چارٹرڈ طیارے پر عمرہ کرنیوالے علیم خا ن ایک ارب 21کروڑ کے مقروض 

پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین نے واضح کیا کہ میں بد نیت نہیں ہوں، نہ کوئی شرارت کی اور نہ سازشیں کرنے والا مزاج رکھتا ہوں۔ میں اس بات پر ایمان رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز سے واقف ہے اور حقیقوں کی پہچان رکھتا ہے۔

جہانگیر ترین کا ردِ عمل

تحریک انصاف کے سابق جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین نے کہا کہ لودھراں میں تبدیلی آ گئی ہے ہم کلین سویپ کریں گے۔ لودھراں میرا گھر ہے، میں امیدوار کے ساتھ ہوں اپنا الیکشن سمجھ  کر لڑوں گا۔ پی ٹی آئی اپنے ورکرز کو کبھی بھی نہیں بھولے گی۔ ہمیں منصفانہ ٹکٹوں کی تقسیم کرنی چاہئے۔

90 فیصد فیصلے ہمارے ہو چکے ہیں۔ میں تحریک انصاف کے لیے کام کر رہا ہوں۔ عہدہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنا کوئی مفاد نہیں ہے۔ اگر کوئی دھرنا دینا چاہتا ہے، ضرور دے۔ ٹکٹ منصفانہ دیئے جائیں۔ جنوبی پنجاب سے نا انصافی ہوئی۔

 پڑھنا نہ بھولیں: امیدواروں کی بڑی تعداد کو مختلف مقدمات کا سامنا 

شاہ محمود صاحب اپنے اوپر تحفظات دور کریں، کسی پر الزام نا لگائیں۔ عون چودھری جیسے کارکنوں کے تحفظات بھی ان کو دور کرنے چاہئیں۔ اپنے ضلع اور شہر کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ منصفانہ انداز میں معاملات حل کریں۔

جہانگیر ترین نے مزید یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن اثاثہ جات کی تحقیق کرے کہ کس کے کتنے اثاثے ہیں۔ ن لیگ کے  گھر میں  بھی دڑاڑیں پڑ گئی ہیں۔ عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کے لیے ہر کوشش کریں گے۔

احمد علی کیف

Urdu Content Lead