کسی ادارے سے کچھ لینا دینا نہیں،سارا معاملہ ہی کالا لگتا ہے:نواز شریف


اسلام آباد(24نیوز) سابق وزیر اعظم نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر نیب ریفرنسز کی سماعت کیلئے ایک بار پھر عدالت میں پیش ہوئے ہیں،انہوں نے کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اداروں،مخالفین کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا ، ان کا کہنا تھا کہ کسی ادارے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، سارا معاملہ ہی کالا لگتا ہے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ کارکردگی کے باوجود نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے، میرا تو کسی ادارے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے اور یہ سارا معاملہ ہی کالا لگتا ہے-

سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ نگران حکومت کے معاملے میں سب سیاستدانوں کوبیٹھنا چاہیے اور اگر اس حوالے سے کوئی ترمیم لائی گئی تو اس کی حمایت کریں گے۔نگران حکومت کے اختیارات کے بارے بہت سی چیزیں طے شدہ نہیں ہیں، اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ نگران حکومت آئینی اختیارات سے باہر نا نکلیں۔

انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کے معاملے میں حکومت اور اپوزیشن لیڈر کا کردار اہم ہے، نگران حکومت میں کیا ہونا چاہیے کیا نہیں، اس پر بات ہونی چاہیے اور اسے اپنی حدود سے نہیں نکلنا چاہیے۔

جبکہ دیگر مسلم لیگی رہنماﺅں نے بھی میڈیا سے گفتگو کی ، پرویز رشید نے کہا کہ میاں صاحب نے اپنے تمام وعدے پورے کیے اور وعدے پورے کرنے پر وہ ا?ج عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں، نواز شریف نے 2013 کے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ کھیلوں کے میدان آباد کریں گے، روزگار فراہم کیا جائے گا اور خوشحالی لائیں گے۔
نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر نے بھی گفتگو کی جو نیب ریفرنسز میں بھی نامزد ہیں،کیپٹن (ر) صفدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز شیخ رشید نے آئین توڑنے کا مشورہ دیا، جو شخص آئین توڑنے کا عندیہ دے کیا وہ پاکستانی ہے، ان کے بیان پر سپریم کورٹ سے ازخود نوٹس لینے کی درخواست کریں گے۔
کیپٹن (ر) صفدر نے اعلیٰ عدالت سے اپیل کی کہ شیخ رشید کے بیان پر ازخود نوٹس لیا جائے، شیخ رشید نے کس کی ایماء پر آئین توڑنے کی بات کی ہے۔