ڈپٹی کمشنر کا خودکشی کے نام پر قتل،پوسٹمارٹم نے پول کھول دیا


گوجرانوالہ (24نیوز )ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سہیل احمد ٹیپو  کا خودکشی کے نام پر قتل کردیا گیا ،لاش کو پوسٹمارٹم کے لیے ہسپتال منتقل،رپورٹ میں تفصیل سامنے آگئی۔

تفصیل کے مطابق سہیل احمد ٹیپو اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے ۔ضلعی انتظامیہ سہیل احمد کے گھر پہنچی تو دیکھا کہ ان کی ہاتھ بندھی ہوئی لاش پنکھے سے لٹکی ہو ئی ہے۔تفتیشی اداروں اور انتظامیہ نے ڈی سی ہاوس پہنچ کر ان کی لاش کو ہسپتال منتقل کیا جہاں ان کا پوسٹمارٹم ہو گا ۔

سیکیورٹی فورسز سہیل احمد کے اہل خانہ سے ابتدائی تفتیش کر رہے ہیں ۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ سہیل احمد ڈپریشن کا شکار تھے اور انہیں اپنی نوکری کا بھی دباﺅ تھا ۔

نقیب اللہ قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا،آج کی بڑی خبر

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال کے اسسٹنٹ میڈیکل افسر کے مطابق کمشنر کی اطلاع پر ڈی سی ہاؤس پہنچے تو لاش پنکھے سے لٹکی تھی اور ابتدائی طور پر واقعہ خودکشی معلوم ہوتا ہے۔

اے ایم ایس کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم کے بارے میں کمشنر کو قانونی رائے فراہم کردی ہے جب کہ پولیس ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے تمام ملازمین کو حراست میں لیتے ہوئے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل ٹیپو کے برابر والے کمرے میں ان کے والد سو رہے تھے، رات تقریباً ساڑھے 3 بجے انہوں نے والدہ سے بات کی اور کہا کہ چھت پر بکری ہے،کسی آواز سے پریشان مت ہونا۔

پولیس ذرائع کے مطابق والدہ سے گفتگو کے بعد سہیل ٹیپو اپنے کمرے میں چلے گئے، صبح ڈپٹی کمشنر آفس سے آپریٹر ڈپٹی کمشنر کو فون کرتا رہا اور فون نہ اٹھانے پر آپریٹر نے ڈپٹی کمشنر کی والدہ کو فون کیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ والدہ نے اپنے بیٹے کو موبائل پر کال کی پھر جا کر کمرے کا دروازہ کھولا تو سہیل ٹیپو کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی۔

سہیل احمد ٹیپو 11 دسمبر 2017 کو ہی ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ تعینات ہوئے تھے اور انہوں نے سوگواران میں تین بیٹیاں، ایک بیٹا اور بیوی چھوڑی ہیں جو لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔ 

علاوہ ازیں پوسٹمارٹم رپورٹ سامنے آتے ہی سارے راز کھل گئے۔ قتل کو خودکشی کا نام دیا گیا تھا۔