پی آئی اے نجکاری کیلئے ن لیگ حکومت کی پھر سے تیاریاں

پی آئی اے نجکاری کیلئے ن لیگ حکومت کی پھر سے تیاریاں


کراچی (24 نیوز) پاکستان ایئر لائنز کی نجکاری کے لیے ایک بار پھر دوڑ دھوپ شروع کر دی گئی ہے۔ نجکاری کمیشن نے دوبارہ فنانشل ایڈوائزر کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

تین برس قبل بھی پنتالیس کروڑ اڑسٹھ لاکھ روپے فیس دے کر کنسورشیم کی خدمات لی گئی تھیں۔

اس حوالے سے حکومت نے جولائی 2014 میں بھی پی آئی اے کی نجکاری کے سلسلے میں دوبئی اسلامک بینک کی سربراہی میں قائم ایک کنسورشیم کی خدمات حاصل کی تھیں۔ اس مد میں 45 کروڑ 68 لاکھ روپے کی فیس ادا کی۔

یہ بھی پڑھئے:شیخ رشید کا ایک اور دھماکہ،نواز شریف کو دل کی بات کہہ دی 

معاہدہ کے مطابق نجکاری ہونے کی صورت میں قیمت کا 1.5 فیصد کمیشن بھی کنسورشیم کو ملنا تھا۔ یہ خدمات اکتوبر 2017 تک کے لیے حاصل کی گئیں۔ اس دوران پی آئی اے کی نجکاری نہ ہو سکی۔

اب نجکاری کمیشن اسی کنسورشیم کی خدمات پرانی شرائط ہی پر دوبارہ حاصل کر رہا ہے۔ نجکاری کے سلسلے پہلے تیار کردہ پلان کے مطابق پی ائی اے کا ہوٹلنگ، رئیل اسٹیٹ اور سرمایہ کاری کو ایوی ایشن بزنس سے الگ کر کے فروخت کیا جانا تھا۔

پڑھنا نہ بھولئے: شیریں رحمٰن پاکستان کی پہلی خاتون سینیٹ اپوزیشن لیڈر منتخب 

ذرائع کے مطابق پی آئی اے کے تما م قرضوں اور واجبات کو ہوٹلنگ اور دوسرے کاروبار میں شامل کیا جائے گا۔